Was Prophet Isma'il (peace be upon him) saved from sacrifice because of the Noble Prophet ﷺ?
حضرت اسماعیل علیہ السلام کا حلقوم کٹنے سے محفوظ رہنا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے تھا۔
الصافات : 105بے شک آپ نے اپنا خواب سچا کر دکھایا۔
اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ خواب تو سچا تب ہوتا جب حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل کو ذبح کر دیتے ،واقع میں تو حضرت اسماعیل علیہ السلام ذبیح نہیں ہوئے تھے پھر ان کا خواب کس طرح سچا ہوا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ خواب میں انہوں نے یہ نہیں دیکھا تھا کہ انہوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر دیا ہے ، انہوں نے خواب میں صرف اتنا دیکھا تھا کہ وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر چھری پھیررہے ہیں ،سو انہوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر چُھری پھیری، اب اگر چھری نے گلا نہیں کاٹا اور خون نہیں بہا تو اس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فعل ذبح میں کوئی کمی نہیں آئی کیونکہ اللہ تعالٰی کی تقدیر اس طرح تھی کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل پھیلے کیونکہ ہمارے نبی حضرت سید محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نور اب حضرت اسماعیل علیہ السلام میں منتقل ہو چکا تھا ، ا ور جس میں آپ کا نو ر ہو اس کو چھری کیسے کاٹ سکتی ہے آپ نے خود فرمایا ہے کہ ہر چیز کو یہ علم ہے کہ میں اللہ کا رسو ل ہوں۔
(المعجم الکبیر،ج2،ص262)نیز ابھی آپ ﷺ کا نور حضرت اسماعیل علیہ السلام سے دوسرے نفوس قدسیہ میں منتقل ہونا تھا اگر حضرت اسماعیل علیہ السلام بلوغت سے پہلے ہی ذبح کر دیے جاتے تو تقدیر الہی اور منشاء الہی کیسے پورا ہوتا اس لیے ابھی حضرت اسماعیل علیہ السلام کو زندہ رکھنا تھا تا کہ ان کی نسل سے ہمارے نبی خاتم الانبیاء سیدنا محمد مصطفی علیہ التحیتہ والثناء اس عالم آب و گل میں رونق افروز ہوں جیسا کہ آپ کا خود ارشاد ہے:
حضرت واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بے شک اللہ تعالی نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کومنتخب کر لیا ،اور کنانہ کی اولاد میں سے قریش کو منتخب کر لیا اور قریش میں سے ہو ہاشم کو منتخب کر لیا اور بنو ہاشم میں سے مجھ کو چن لیا۔
(صحیح مسلم ،کتاب الفضائل، باب فضل نسب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ،رقم الحديث بلا تکرار 2276)
امام ترمذیؒ کی روایت اس طرح ہے:
حضرت واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالی نےحضرت ابرا ہیم کی اولاد میں سے حضرت اسماعیل کو چن لیا اور حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے بنو کنانہ کو چن لیا۔ اور بنو کنانہ میں سے قریش کو چن لیا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو چن لیا اور بنو ہاشم میں سے مجھ کو چن لیا۔ (سنن التر مذی، رقم الحدیث 3605)
سو جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہمارے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیدا ہونا اللہ تعالیٰ کی تقدیرمیں تھا تو بلوغت سے پہلے حضرت اسماعیل کس طرح ذبح ہو سکتے تھے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس وقت سید نا اسماعیل علیہ السلام کی جان کا محفوظ رہنا یہ بھی ہمارے نبی سید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تصدق تھا۔
Other phrasings of this question
- Prophet Isma'il's sacrifice and the prophetic Noorseo