Are the Prophets alive in their graves?
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی حیات کے مظاہر
علامہ سید محمود آلوسی متوفی 270ھ لکھتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس امت کے ایک سے زیادہ کاملین نے آپ کی زیارت کی ہے اور آپ سے بیداری میں فیض حاصل کیا ہے، شیخ سراج الدین بن الملقن نے طبقات الاولیاء میں لکھا ہے کہ شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ العزیز نے بیان کیا ہے کہ میں نے ظہر سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، آپ نے فرمایا: اے میرے بیٹے ! تم خطاب کیوں نہیں کر تے؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! میں عجمی شخص ہوں، فصحاء بغداد کے سامنے کیسے کلام کروں؟ آپ نے فرمایا: اپنا منہ کھولو میں نے اپنا منہ کھولا تو آپ نے اس میں سات مرتبہ لعاب دہن ڈالا اور آپ نے فرمایا: لوگوں سے کلام کرو اور انہیں حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اپنے رب کے دین کی دعوت دو پھر میں ظہر کی نماز پڑھ کر لوگوں کے سامنے بیٹھا گیا میرے پاس بہت مخلوق آئی اور مجھ پر کلام ملتبس ہو گیا، پھر میں نے حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کی زیارت کی جو میرے سامنے مجلس میں کھڑے ہوئے تھے آپ نے مجھ سے فرمایا: اے میرے بیٹے ! کلام کیوں نہیں کرتے؟ میں نے کہا: اے میرے والد گرامی! مجھ پر کلام ملتبس ہو گیا، آپ نے فرمایا: اپنا منہ کھولو ، آپ نے میرے منہ میں چھ مرتبہ لعاب دہن ڈالا میں نے کہا: آپ نے سات بار مکمل کیوں نہیں کیا ؟ حضرت علی نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب کی وجہ سے پھر وہ مجھ سے غائب ہو گئے ۔
نیز شیخ سراج الدین نے لکھا ہے کہ شیخ خلیفہ بن موسیٰ النہر ملکی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند اور بیداری میں بہ کثرت زیارت کرتے تھے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نیند اور بیداری میں اکثر افعال حاصل کیے اور ایک بار انہوں نے ایک رات میں آپ کی سترہ مرتبہ زیارت کی ان باریوں میں سے ایک بار میں آپ نے فرمایا: اے خلیفہ ! میری زیارت کے لیے بے قرار نہ ہوا کرو کیونکہ بہت سے اولیاء میری زیارت کی حسرت میں فوت ہو گئے اور شیخ تاج الدین بن عطاء اللہ نے ”لطائف المنن “ میں لکھا ہے کہ ایک شخص نے شیخ ابو العباسی مرسی سے کہا: اپنے اس ہاتھ سے میرے ساتھ مصافحہ کیجئے انہوں نے کہا: میں نے اس ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کسی سے مصافحہ نہیں کیا اور شیخ مرسی نے کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پلک جھپکنے کی مقدار بھی میری نظروں سے اوجھل ہوں تو میں اپنے آپ کو مسلمان شمار نہیں کرتا، اس قول کی مثل اور بہت سے اولیاء سے منقول ہے۔
بہ کثرت متقدمین اور متاخرین سے منقول ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند میں زیارت کی اور اس کے بعد بیداری میں زیارت کی اور انہوں نے اس حدیث کی تصدیق کی اور جن چیزوں کے متعلق وہ متشوش تھے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان چیزوں کے متعلق سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو وہ مسئلہ اس طرح بیان کیا جس سے ان کی تشویش اور پریشانی دور ہو گئی۔
علامہ سیوطی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤیت کے سلسلہ میں تمام احادیث آثار اور نقول ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے کہ خلاصہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جسم اور روح کے ساتھ زندہ ہیں اور آپ اطراف ارض میں جب چاہیں، جہاں چاہیں تصرف کرتے ہیں اور تشریف لے جاتے ہیں اور عالم ملکوت میں آپ اپنی اس ہیئت کے ساتھ ہیں جس ہیئت میں آپ وفات سے پہلے تھے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور آپ آنکھوں سے اسی طرح غائب ہیں جس طرح فرشتے غائب ہیں حالانکہ وہ اپنے اجسام کے ساتھ زندہ ہیں اور جب اللہ تعالی کسی شخص کے اعزاز اور اکرام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے اور نبی صلی اللہ علیہ سلم کے درمیان جو حجابات ہیں ان کو ہٹا دیتاہے اور وہ نبی پاک صلی للہ علیہ وسلم کو اس ہیئت پر دیکھتا ہے اس سے کوئی چیز مانع مان نہیں ہے اور جسم مثالی کی تخصیص کا کوئی باعث نہیں ہے۔ (علامہ سیوطی کی عبارت ختم ہوئی)
علامہ سیوطی رحمہ اللہ کاتمام انبیا علیہم السلام کے متعلق یہی موقف ہے انہوں نے کہا:
انبیاء علیہم السلام زندہ ہیں اور وفات کے بعد ان کی رو حیں لوٹا دی گئیں اور ان کو قبروں سے نکلنے اور تمام علوی اور سلفی ملکوت میں تصرف کرنے کی اجازت دی گئی ۔
Other phrasings of this question
- Life of the Prophets in their gravesseo
- Consensus of the ummah on the Prophets' grave-lifeeducational