معراج

On the Night of Mi'raj, did the Noble Prophet ﷺ only converse with Allah (the Exalted), or also see Him?

QB-00068·Approved by asma asghar
Short answer
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو شب معراج سر کی آنکھوں سے دیکھا ہے، کیونکہ حضرت ابن عباس اور حضرت انس سے روایت ہے کہ آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ،دلائل درج ذیل ہیں۔
Evidence 1
(Word doc — حم السجدہ)
وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُؕ-اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ (الشوریٰ،51)
Translation
اور کسی آدمی کیلئے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر یا (یوں کہ وہ آدمی عظمت کے) پر دے کے پیچھے ہویا (یہ کہ) اللہ کوئی فرشتہ بھیجے تو وہ فرشتہ اس کے حکم سے وحی پہنچائے جو اللہ چاہے۔بیشک وہ بلندی والا، حکمت والا ہے۔
ترجمہ کنزالعرفان
Tafseer

اللہ تعالیٰ کے دیدار کے ساتھ اس سے ہم کلام ہونے کے متعلق مفسرین کی تحقیق

قاضی عبد الله بن عمر بیضاوی متوفی 685ھ الشوری: 51 کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے کہ بغیر وحی کے کسی شخص کا اللہ سے ہم کلام ہونا ممکن نہیں ہے یعنی وحی کے ذریعہ ہم کلام ہونا ممکن ہے اور یہ وحی اس سے عام ہے کہ اللہ تعالیٰ بالمشافہ اور بالمشاہدہ بندہ سے ہم کلام ہو جیسا کہ معراج کی حدیث میں ہے یا اس صورت میں ہم کلام ہو کہ اس کا کلام تو سنائی دے اور اس کی ذات دکھائی نہ دے جیسا کہ وادی طویٰ اور پہاڑ طور میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا تھا۔

(تفسیر بیضاوی مع الخفاجی ،ج8،ص366،دارلکتب العلمیہ،بیروت)

اس عبارت کی شرح میں علامہ خفاجی متوفی 1069ھ لکھتے ہیں:

بالمشافہ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ سے بلا واسطہ مخاطب ہوا ہو جیسا کہ حدیث معراج میں ہے ۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث:7518،صحیح مسلم رقم الحدیث: ۱۲۲)

اللہ تعالیٰ نے آپ پر تجلی فرمائی اور آپ سے کلام فرمایا اور آپ پر نمازیں فرض کیں اور آپ سے یہ وعدہ کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے بالمشافہ کلام فرمائے گا ۔ ( عنایۃ القاضی ج ۸ ص ۱۳۶۷ بیروت ۱۴۱۷ھ )

علامہ علی بن محمد خازن متوفی ۷۲۵ ھ لکھتے ہیں: یہ آیت اس پر محمول ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں کسی سے بالمشافہ کلام نہیں فرمائے گا ۔

( تفسير الخازن ج 4 ص ۱۰۴ دار الكتب العلمیة بیروت، ۱۴۱۵ھ )

اور سورہ والنجم میں لکھتے ہیں:

خلاصہ یہ ہے کہ اکثر علماء کے نزدیک راجح یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو شب معراج سر کی آنکھوں سے دیکھا ہے، کیونکہ حضرت ابن عباس اور حضرت انس سے روایت ہے کہ آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے اور یہ بات وہ اپنی رائے سے نہیں کہہ سکتے سو یہ حدیث آپ سے سماع پر محمول ہے ( اور معراج کا واقعہ امور آخرت سے ہے اس لیے الشوری: ۵۱ میں جو بالمشافہ کلام کی نفی ہے وہ دنیا میں ہے اور وہ شب معراج بالمشافہ کلام کرنے کے منافی نہیں ہے )۔

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ۱۲۷۰ ھ لکھتے ہیں:

اکثر علماء اس پر متفق ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سبحانہ کو شب معراج دیکھا ہے کیونکہ اکثر روایات میں دیکھنے کی تصریح ہے ہاں ان روایات میں یہ تصریح نہیں ہے کہ آپ نے سر کی آنکھوں سے دیکھا ہے، لیکن دیکھنے سے ظاہر یہی ہے کہ آپ نے سر کی آنکھوں سے دیکھا ہے، امام اشعری اور منتظمین کا ہمارے نبی سے اس رات بلا واسطہ کلام فرمایا اور جعفر بن محمد الباقر حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہم سے بھی رضی الله کہ یہی روایت ہے اور احادیث صحیحہ سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے جن میں یہ مذکور ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے پچاس نمازیں فرض کیں پھر کم کرتے کرتے آخر میں پانچ نمازیں فرض کر دیں۔

(روح المعانی جز ۲۵ ص ۸۶ دار الفکر بیروت ۱۴۱۷ھ )

تبیان القرآن،ج10،ص497،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ

Other phrasings of this question

  • The Ahl al-Sunnah position on the vision of Allah
    educational
Feedback on this answer
Email feedback