Is visiting the shrines of the Awliya of Allah a means of reward?
اولیاءاللہ کےمزارات کی زیارت اوران سےحصول فیض کاجواز:
علامہ اسماعیل حقی متوفی ۷ ۱۱۳ ھ اس بحث میں لکھتے ہیں:
بعض فریب خوردہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب لوگ کسی ولی سے اعتقاد رکھیں گے اُن کی قبر کی تعظیم کریں گے اور اُس سے برکت و مدد حاصل کریں گے تو ہمیں خطرہ ہے کہ لوگ کہیں یہ اعتقاد نہ کر بیٹھیں کہ اللہ کے ساتھ اولیاء بھی مؤثر فی الوجود ہیں نتیجہ لوگ کفر و شرک میں مبتلا ہو جائیں گے۔ پس ہم انہیں اس سے روکیں گے اولیاء کی قبور کو گرائیں گئے ان پر بنی ہوئی عمارت ہٹائیں گے اُن سے غلاف اور پردے اتاریں گے اور بہ ظاہر اولیاء کی توہین کے مرتکب ہوں گے تا کہ جاہل عوام کو پتا چل جائے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساتھ یہ اولیاء بھی مؤثر فی الوجود ہوتے تو اس تو ہین کو روک دیتے ۔ سو جان لیجئے کہ یہ فعل توہین قبور وغیرہ) صریح کفر ہے اور یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے فرعون نے کہا تھا کہ مجھے چھوڑ دو میں موسیٰ کو قتل کر دوں اور( وہ اپنی مدد کے لیے ) اپنے رب کو بلا لیں، بے شک مجھے تو ڈر ہے اس بات کا کہ کہیں وہ تمہارے دین کو تبدیل نہ کر دیں اور ملک میں فساد نہ پھیلا دیں ۔ (الغافر :۲۶) اور یہ فعل ( توہین قبور وغیرہ) محض ایک امر موہوم کی بناء پر کیونکر درست ہو سکتا ہے جب کہ اس میں عوام الناس کے متعلق گمراہی کی بدگمانی بھی ہے؟ (روح البیان ج ۹، ص ۴۳، داراحیاء التراث العربی بیروت)
علامہ احمد بن محمد صاوی مالکی متوفی ۱۲۲۳ھ نے وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ “ (المائدہ:۳۵) کی تفسیر میں لکھا ہے:
وسیلہ تلاش کرنے سے مراد وہ چیز تلاش کرنا ہے جو بندے کو مطلقا اللہ تعالیٰ کے قریب کر دےمثلاً انبیاء کرام اور اولیاء کرام کی محبت ،صدقات، اللہ تعالیٰ کے محبو بین کی زیارت، دعا کی کثرت، صلہ رحمی اور کثرت ذکر وغیرہ۔ پس مطلب یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے قریب کر دے اس سے چمٹ جاؤ اور جو رب سے دور کر دے اس کو چھوڑ دو۔ جب تم نے یہ جان لیا تو اب یہ سمجھ لو کہ ) کھلی گمراہی اور کھلا خسارہ ہے ان لوگوں کے لیے جو مسلمانوں کو زیارت اولیاء کی بنیاد پر محض یہ گمان کر کے کا فر قرار دیتے ہیں کہ زیارت اولیاء غیر اللہ کو پوجنے کے قبیل سے ہے۔ ہرگز ایسا نہیں ! بلکہ یہ تو محبة فی اللہ کا مظاہرہ ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سنو! اس شخص کا ایمان نہیں جس کے اندر محبت نہیں ۔
(تفسیر صاوی ج ۲ ص ٬۴۹۷ دار الفکر بیروت)
Other phrasings of this question
- The reward of visiting saints' shrinesseo
- Remembrance of the akhirah through visiting graveseducational