معجزاتِ نبوی ﷺ

How many miracles of the Noble Prophet ﷺ proving his prophethood are mentioned in the Noble Qur'an?

QB-00075·Approved by asma asghar
Short answer
مکمل قرآن مجید ہی آپ ﷺ کا معجزہ ہے البتہ مفسرین نے جو عدد بتایا ہے وہ اٹھار ہ ہزار ہے ۔
Evidence 1
(Word doc — قٓ)
فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ (الطور،34)
Translation
اس جیسی ایک بات تو لے آئیں اگر سچے ہیں۔
ترجمہ کنزالایمان
Tafseer

سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ثبوت میں قرآن مجید میں اٹھارہ ہزار سے زیادہ معجزات ہیں:

الطور : ۳۴ میں فرمایا : اگر وہ سچےہیں تو وہ اس قرآن ایسی کوئی بات (آیت ) بنا کر لے آئیں

یعنی اگر تمہارے زعم کے مطابق ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم شاعر ہیں تو تمہارے اندر بھی بڑے بڑے شعراء اور بلغاء اور بہت زیرک کا ہن موجود ہیں، جو فی البدیہہ بڑے بڑے خطبے دیتے ہیں اور قصائد کہتے ہیں سو تم بھی اس قرآن مجید کی مثل کوئی بات زیرک کا موجود جوفی بڑے خطبے دیے ہیں اور کہتے ہیں ستم مجید کی یا کوئی آیت لے کر آ جاؤ یہ آیت اس موقع پر نازل ہوئی تھی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی اور آپ بہ کثرت معجزات پیش کرتے تھے جن کا کفار اور مشرکین خود مشاہدہ کرتے تو چاہیے یہ تھا کہ وہ بعد میں آنے والوں لوگوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور صداقت کو بیان کرتے اس کے برعکس انہوں نے آپ کی تکذیب کی اور حق کو ماننے کے بجائے اس کا انکار کیا۔

بعض علماء نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے: تم اس قرآن کی مثل کوئی بات یا آیت لے آؤ تو یہ امر تعجیز کے لیے ہے،یعنی اس کا یہ مقصد نہیں ہے کہ ان کو یہ حکم دیا ہے کہ تم ضرور قرآن مجید کی مثل کوئی بات لے آؤ، کیونکہ وہ اس کی مثل کوئی چیز لا ہی نہیں سکتے، اس لیے اس آیت کا مقصد ان کے عجز کو ظاہر کرنا ہے ۔

امام رازی نے اس سے اختلاف کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ حکم ان کے عجز کو ظاہر کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ ان کی تکذیب کے لیے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مطلقاً یہ نہیں فرمایا کہ اس کی کے مثل کوئی آیت لاؤ بلکہ فرمایا: اگر تم سچے ہو تو اس کی مثل کوئی بات لے کر آؤ اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت سے مقصود ان کے بلکہ تم ہوتو کذب کو ظاہر کرنا ہے اور یہ بتانا ہے کہ وہ قرآن مجید کو شعر و شاعری قرار دینے کے دعوی میں جھوٹے ہیں اور قرآن مجید میں جو حکم کفار کے عجز کو ظاہر کرنے کے لیے دیا گیا ہے اس کی مثال یہ آیت ہے:

حضرت ابراہیم علیہ الصلوة والسلام نے خدائی کے مدعی نمرود کی خدائی کو باطل کرنے کے لیے فرمایا:

فَإِنَّ اللهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ . (البقره: ۲۵۸)

بے شک اللہ سورج کو مشرق کی جانب سے نکالتا ہے تو اس کو مغرب کی جہت سے نکال کر دکھا تو اس کافر کے ہوش اُڑ گئے ۔

ہم کئی بار بیان کر چکے ہیں کہ قرآن مجید معجز ہے اس کی کسی ایک سورت یا کسی ایک بات کی مثل لانے کا چیلنج دیا گیا اسلام کے مخالفین دنیا میں بہت زیادہ ہیں اور علوم و فنون میں بھی دن بہ دن ترقی ہو رہی ہے اس کے باوجود کوئی بڑے سے بڑا مخالف آج تک قرآن مجید کی کسی سورت بلکہ کسی آیت کی بھی مثل نہیں لا سکا اسلام کو جھٹلانے کے لیے اگر وہ ایسا کر سکتے تو ضرور کر لیتے اور جب اتنا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ایسا نہ کر سکے تو معلوم ہوا کہ قرآن اپنے بے نظیر ہونے کے دعوئی میں سچا ہے اور یہ جھوٹے ہیں ۔

اسی طرح قرآن مجید کا دوسرا دعوی یہ ہے کہ :

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ (الحجر:۹)

بے شک ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔

یعنی ہم قرآن مجید کی حفاظت کرنے والے ہیں کہ اس میں سے کوئی چیز کم نہیں ہو گی اور چودہ سو سال گزر چکے ہیں، قرآن مجید سے آج تک کوئی آیت کم نہیں ہوئی اور یہ قرآن مجید کا دوسرا معجزہ ہے:

لا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدِ (حم السجدة : ٢٢)

قرآن مجید میں باطل (غیر قرآن) نہ سامنے سے آ سکتا ہے نہ پیچھے سے یہ (قرآن) بے حد حکمت والے اور بہت کمالات والے کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے۔

یعنی قرآن مجید میں کسی غیر قرآن الفاظ کا اضافہ نہیں کیا جا سکتا اور چودہ سو سال گزر چکے ہیں آج تک قرآن مجید میں کسی لفظ کا اضافہ نہیں ہو سکا اور یہ قرآن مجید کا تیسرا معجزہ ہے۔ بلکہ قرآن مجید کی چھ ہزار سے زیادہ آیات ہیں اور ہر آیت میں تین معجزے ہیں، نہ کسی آیت کی مثل کوئی بنا سکتا ہے نہ کسی آیت سے کوئی کمی کی جاسکتی ہے نہ کسی آیت میں کوئی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ایک قرآن مجید میں اٹھارہ ہزار سے زیادہ معجزات ہیں، دیگر انبیاء علیہم السلام کے معجزات ان کے ساتھ جاتے رہے اور ہمارے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور رسالت اور آپ کی شریعت کا چونکہ قیامت تک ماننا ضروری ہے اس لیے آپ کے معجزات بھی قیامت تک قائم اور ثابت ہیں، نیز اگر کسی یہودی یا عیسائی کو حضرت موسیٰ یا حضرت عیسی علیہما السلام کی نبوت اور تورات اور انجیل میں شک ہو جائے تو اس کو مطمئن کرنے کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ ان کتابوں میں تحریف ہو چکی ہے اور ان کی اصل زبان میں بھی ان کی کتابیں موجود نہیں کیونکہ یہ کتابیں عبرانی زبان میں نازل ہوئیں تھیں اورعبرانی زبان اب دنیا میں موجود نہیں رہی اور جب ان کتابوں کا خود اپنا وجود ثابت نہیں ہے تو ان کتابوں سے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی کے دنیا میں مبعوث ہونے اور ان کی نبوت اور رسالت کب ثابت ہو سکتی ہے؟ اور اگر خدانخواستہ کسی مسلمان کو سید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور آپ کی بعثت میں شک ہو جائے تو اس کے ازالہ کے لیے قرآن مجید میں اٹھارہ ہزار سے زائد دلائل اور معجزات موجود ہیں ۔

تبیان القرآن،ج11،ص456،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ

Other phrasings of this question

  • The miracle of the Qur'an and prophetic miracles
    educational
Feedback on this answer
Email feedback