صحابہ کرام

What is the punishment for those who curse the Companions?

QB-00081·Approved by asma asghar
Short answer
جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بُرا بھلا کہے احادیث کی روشنی میں وہ بہت بُرا ہے ،اس کے پاس بیٹھنے سے منع کیاگیا اور سخت وعید بیان کی گئی۔
Evidence 1
(Word doc — قٓ)
وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَا اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ (الحشر،10)
Translation
اور ہمارے دل میں ایمان والوں کیلئے کوئی کینہ نہ رکھ، اے ہمارے رب! بیشک تو نہایت مہربان، بہت رحمت والا ہے۔
ترجمہ کنزالعرفان
Tafseer

صحابہ کو سب وشتم کی ممانعت اور مذمت میں احادیث

امام ابو جعفر محمد بن عمر و العقیلی المکی المتوفی 322 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اللہ نے مجھے پسند فرمایا اور میرے لیے میرے اصحاب اور میرے سسرال والوں کو پسند فرمایا اور عنقریب ایک قوم آئے گی جو ان کو بُرا کہے گی اور ان کی تنقیص کرے گی، پس تم ان کے ساتھ مت بیٹھنا اور نہ ان کے ساتھ پینا اور نہ ان کے ساتھ نکاح کرنا۔

كتاب الضعفاء الكبير ،ج 1،ص 136، دار الکتب العلمیہ بیروت)

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اللہ نے میرے اصحاب کو تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے سوائے نبیوں اور رسولوں کے اور ان میں سے میرے لیے چار کو فضیلت دی ہے یعنی حضرت ابوبکر حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم سوان کو میرے اصحاب بنایا اور فرمایا: میرے تمام اصحاب میں خیر ہے اور میری امت کو تمام امتوں پر فضیلت دی اور میری امت میں سے چار قرون کو فضیلت دی : قرن اول قرن ثانی، قرن ثالث اور قرن رابع ۔

(مسند البزار ،رقم الحدیث: 2736)

حضرت عیاض انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

میرے اصحاب اور میرے سسرالی رشتہ داروں کی حفاظت کرو سو جس نے ان کی حفاظت کی اللہ دنیا اور آخرت میں اس کی حفاظت کرے گا اور جس نے ان کی حفاظت نہیں کی اللہ اس سے بری ہو جائے گا اور جس سے اللہ بری ہوگا! اس کو پکڑے گا۔

العجم الکبیر ،ج 17، ص 369)

حضرت عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وفات کے وقت کہا: یا رسول اللہ! آپ ہمیں وصیت کیجئے آپ نے فرمایا : میں تمہیں مہاجرین مین سے سابقین اولین کے متعلق وصیت کرتا ہوں اور ان کی اولاد کے متعلق اور ان کے بعد کے لوگوں کے متعلق اگر تم نے ان کی خیر خواہی نہ کی تو تمہارا کوئی فرض اور نفل قبول نہیں کیا جائے گا۔

المعجم الا وسط ،رقم الحديث : 878)

حضرت عویم بن ساعدۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اللہ نے مجھے فضیلت دی اور میرے اصحاب کو فضیلت دی اور ان میں سے میرے وزراء انصار اور سسرالی رشتہ دار بنا دیئے سو جس نے ان کو بُرا کہا اس پر اللہ کی لعنت ہو اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی اس کا کوئی فرض قبول ہوگا نہ نفل ۔

(المعجم الکبیر،ج17،ص 140)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

آخر زمانہ میں ایک قوم ہوگی جس کو رافضی کہا جائے گا وہ اسلام کو چھوڑ دیں گے ۔ الحدیث

(مسند ابو یعلی رقم الحدیث: 2586)

تبیان القرآن،ج11،ص827،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ

Other phrasings of this question

  • Punishment for cursing the Companions
    seo
Feedback on this answer
Email feedback