English translation is being prepared. The Urdu source is shown below. View in Urdu →
متفرق

خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ کا کیا حکم ہے؟

مختصر جواب
خودکشی کرنا ایک گناہ اور حرام کام ہے لیکن چونکہ وہ اسلام کے دائرہ سے نہیں نکلتا لہٰذا اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی یا نہیں اس میں اختلاف ہے اور اس کے متعلق قرآن و احادیث میں بیان موجود ہے
حوالہ 1
النساء، آیت 29
وَ لَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَكُمْ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا
ترجمہ
اور اپنی جانوں کو قتل نہ کرو۔ بیشک اللہ تم پر مہربان ہے۔
— ترجمہ کنزالعرفان
تفسیر

اس آیت کے تین معنی ہیں: ایک معنی یہ ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کو قتل نہ کریں کیونکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :تمام مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں ۔(صحیح مسلم، رقم الحدیث : 2586) اس لئے اگر ایک مسلمان نے دوسرے مسلمان کو قتل کیا تو یہ ایسا ہی ہے جیسے اس نے اپنے آپ کو قتل کیا۔

دوسرا معنی یہ ہے کہ کوئی ایسا کام نہ کرو جس کے نتیجہ میں تم ہلاک ہو جاؤ اس کی مثال یہ حدیث ہے: امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256ھ بیان کرتے ہیں: حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ایک سرد رات میں جُنبی ہو گئے تو انہوں نے تیمم کیا اور یہ آیت پڑھی، (ولا تقتلوا انفسكم ان الله كان بكم رحیما) پھر حضور نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپﷺ نے (اُن کو) مُلامت نہیں کی۔ (صحیح البخاری : کتاب التیمم،رقم الحدیث : 334)

اس آیت کا تیسرا معنی یہ ہے کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے خود کشی کرنے سے منع فرمایا ہے اور اسی آیت کی بناء پر خود کشی کرنا حرام ہے۔ علامہ علاؤالدین محمد بن علی بن محمد حصکفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: جس نے خود کو قتل کر لیا خواہ ''عمدا ً" اس کو غسل دیا جائے گا اور اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی ۔ اگرچہ دوسرے مسلمان کو قتل کرنے کی بہ نسبت یہ زیادہ بڑا گناہ ہے۔ امام ابن ہمام نے امام ابو یوسف کے قول کو ترجیح دی ہے کیونکہ حضور نبی کریم ﷺکے پاس ایک شخص کو لایا گیا جس نے خود کشی کی تھی آپ ﷺنے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ ( الدر المختار،ج 1،ص 584 ) علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252 ھ لکھتے ہیں: اس حدیث سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺنے خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ نہیں پڑھی اور بہ ظاہر یہ ہے کہ آپﷺ نے اس پر نماز جنازہ ''زجرا ً" نہیں پڑھی جس طرح آپ ﷺنے مقروض کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ صحابہ کرام میں سے بھی کسی نے اس پر نماز جنازہ نہیں پڑھی کیونکہ دوسروں کی نماز آپﷺ کی نماز کے برابر نہیں ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے آپ ﷺکی صلوٰۃ ان کے لئے سکون ہے۔ شرح المنیہ میں بھی اسی طرح مذکور ہے اور اہل سنت و جماعت کے قواعد پر یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ اس کی توبہ مقبول نہیں ہے کیونکہ ''مطلقا " گنہگار کی توبہ مقبول ہوتی ہے بلکہ کافر کی توبہ بھی کفر سے ''قطعا " مقبول ہوتی ہے حالانکہ اس کا گناہ زیادہ ہے، ہو سکتا ہے کہ ان کی مراد یہ ہو کہ نزع روح کے وقت تو بہ مقبول نہیں ہوتی اور جس نے ایسے فعل سے خود کشی کی جس سے ''فورا" مر جائے ( مثلا" کنپٹی پر پستول رکھ کر فائر کر دینا)تو اس کو توبہ کا وقت ہی نہیں ملایا نزع روح کے وقت چند لمحے ملے اور اس وقت کی تو بہ مقبول نہیں ہے اور جس نےاپنے آپ کو کسی آلہ سے زخمی کر لیا اور اس کے بعد وہ کچھ دن زندہ رہا اور اس نے توبہ کرلی تو اس کی توبہ کی قبولیت کا یقین رکھنا چاہئے یہ ساری بحث اُس کے متعلق ہے جس نے عمدا ًخود کو قتل کیا اور جس نے خود کو ''خطاءً " قتل کیا اس کا شمارشہداء میں ہو گا۔ (رد المحتار،ج1،ص 585) خلاصہ یہ ہے کہ کسی بڑے عالم اور مفتی کو اُس کی نماز جنازہ نہیں پڑھانا چاہنے اور عام مسلمان کو چاہئے کہ اس کی نماز جنازہ پڑھا دے۔(تبیان القرآن،ج2،ص646)

— (صحیح مسلم، رقم الحدیث : 2586) (صحیح البخاری : کتاب التیمم،رقم الحدیث : 334) ( الدر المختار،ج 1،ص 584 ) (رد المحتار،ج1،ص 585) (تبیان القرآن،ج2،ص646) ( الدر المختار،ج 1،ص 584 )
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں