English translation is being prepared. The Urdu source is shown below. View in Urdu →
متفرق

12ربیع الاول نبی پاک ﷺ کا یوم ولادت ہے اور بعض اقوال کے مطابق آپﷺ کا یوم ِوفات بھی ہے، تم اُس دن نبی پاکﷺ کی ولادت پر خوشی مناتے ہو۔ اُس دن آپ ﷺکی وفات پر سوگ کیوں نہیں مناتے؟

مختصر جواب
شریعت نے ہمیں نعمت پر خوشی منانے ،اُس کا اظہار اور بیان کرنے کا تو حکم دیا ہے اور کسی کے انتقال پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا شرعی اعتبار سے جائز نہیں اور حضور اکرم ﷺ تو حاضرو ناظر ہیں اور وہ ہر وقت ہمارے درمیان موجود ہیں اللہ پاک کی دی ہوئی طاقت اور اجازت سے اپنے امتیوں کے حالوں سے واقف ہیں پھر سوگ کس بات کا ۔
حوالہ 1
المائدۃ، آیت 3
اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا
ترجمہ
آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔
— ترجمہ کنزالعرفان
تفسیر

ہم غم اور سوگ کیوں کریں ؟ حضورنبی پاک ﷺجس طرح پہلے زندہ تھے اب بھی زندہ ہیں۔ پہلے دار التکلیف میں زندہ تھے اب دار الجزاء اور جنت میں زندہ ہیں ، آپ ﷺپر اُمت کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں، نیک اعمال پرآپ ﷺاللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہیں اور بُرے اعمال پر آپ ﷺاُمت کےلئے استغفار کرتے ہیں ۔آپ ﷺزائرین کے سلام کا جواب دیتے ہیں ،طالبین شفاعت کےلئے شفاعت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تجلیات کے مطالعہ اور مشاہدہ میں مستغرق رہتے ہیں اورآپ ﷺکے مراتب اور درجات میں ہر آن اور ہر لحظہ ترقی ہوتی رہتی ہے۔ اس میں غم کرنے کی کون سی وجہ ہے ؟ جبکہ آپﷺ نے خودیہ فرمایا ہے کہ : میری حیات بھی تمہارے لیے خیر ہے اور میری ممات بھی تمہارے لیے خیر ہے۔ (الوفاء باحوال المصطفیٰ ،ص 810) مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی 1396ھ لکھتے ہیں: عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے یوم پیدائش کی عید میلاد منائی ،اُن کو دیکھ کر کچھ مسلمانوں نے رسول کریمﷺ کی پیدائش پر عید میلاد النبی کے نام سے ایک عید بنادی، اُس روز بازاروں میں جلوس نکالنے اور اس میں طرح طرح کی خرافات کو اور رات میں چراغاں کو عبادت سمجھ کر کرنے لگے۔ جس کی کوئی اصل صحابہ وتابعین اور اسلاف امت کے عمل میں نہیں ملتی۔(معارف القرآن، ج 3، ص 135 ،مطبوعہ ادارة المعارف، کراچی) علامہ ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ ''اربل ''کے بادشاہ ملک مظفر ابو سعید متوفی 630ھ نے سب سے پہلے میلاد النبی ﷺکی محفل منعقد کی۔ یہ بہت بہادر، عالم ،عاقل ،نیک اور صالح بادشاہ تھا، یہ تین سو دینار خرچ کر کے بہت عظیم دعوت کا اہتمام کرتا تھا۔ عام طور پر شیخ محمد بن عبد الوھاب کے متبعین اور علماء ِدیوبند یہ تاثر دیتے ہیں کہ بارہ ربیع الاول کو عید میلاد النبی منانا اہلِ سنت و جماعت کا طریقہ ہے اور اُن کی ایجاد و اختراع ہے۔ جیسا کہ مذکور الصدر اقتباس سے ظاہر ہو رہا ہے ، لیکن یہ صحیح نہیں ہے،بلکہ ہمیشہ سے اہلِ اسلام ماہ ربیع الاول میں رسول اللہ ﷺ کی ولادت پر خوشی کا اظہار کرتے رہے ہیں اور ان ایام کو عید مناتےرہے ہیں۔ علامہ احمد قسطلانی متوفی 911ھ لکھتے ہیں: ہمیشہ سے اہلِ اسلام رسول اللہ ﷺکی ولادت کے مہینہ میں محفلیں منعقد کرتے رہے ہیں اور دعوتیں کرتے رہے ہیں اور اس مہینہ کی راتوں میں مختلف قسم کے صدقات کرتے ہیں، خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور نیک اعمال زیادہ کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی ولادت کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ اس کی برکت سے ان پر فضل عام ظاہر ہوتا ہے۔ میلاد شریف منعقد کرنےسے یہ تجربہ کیا گیا ہے کہ انسان کو اپنا نیک مطلوب حاصل ہو جاتا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ اُس شخص پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے جس نے مولود مبارک کے مہینہ کی راتوں کو عیدیں بنا دیا۔ (المواہب اللدنیہ ،ج1،ص 78،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت) ۔(تبیان القرآن،ج3،ص68) علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ: قرون ثلاثہ میں اس محفل کے انعقاد کا اہتمام نہیں ہو تا تھا، لیکن یہ بدعت حسنہ ہے۔ اس عمل میں بعض دنیا دار لوگوں نے جو منکرات شامل کر لیے ہیں ، علامہ ابن الحاج مالکی نے ''مد خل ''میں ان کا رد کیا ہے اور یہ تصریح کی ہے کہ اس مہینہ میں نیکی کے کام زیادہ کرنے چاہئیں اور صدقات ، خیرات اور دیگر عبادات کو بہ کثرت کرنا چاہیے اور یہی مولود منانے کا مستحسن عمل ہے ۔(تبیان القرآن،ج3،ص68) ، (شرح المواہب اللدنیہ ،ج1،ص139، دار المعرفہ، بیروت )

— (الوفاء باحوال المصطفیٰ ،ص 810) (معارف القرآن، ج 3، ص 135 ،مطبوعہ ادارة المعارف، کراچی) ۔(تبیان القرآن،ج3،ص68) (المواہب اللدنیہ ،ج1،ص 78،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت) ۔(تبیان القرآن،ج3،ص68) (شرح المواہب اللدنیہ ،ج1،ص139، دار المعرفہ، بیروت )
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں