English translation is being prepared. The Urdu source is shown below. View in Urdu →
علمِ غیب

کیا اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو عِلم غیب عطا فرمایاتھا؟

مختصر جواب
جی ہاں، اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب ﷺ کو علمِ غیب عطا فرمایا ہے اور قرآن و حدیث میں دلائل موجود ہیں۔
حوالہ 1
الانعام، آیت 50
قُلْ لَّا اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآىٕنُ اللّٰهِ وَ لَا اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَا اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ
ترجمہ
(اے حبیب مکرمﷺ!) تم فرمادو :میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں خود غیب جان لیتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ۔
— ترجمہ کنزالعرفان
تفسیر

مفسرین کرام نے اس آیت میں علم غیب کی نفی کو مطلقا ًعلم غیب کی نفی پر محمول نہیں کیا، بلکہ اُس علم غیب کی نفی پر محمول کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید کی دیگر آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سید نا محمدرسول اللہ ﷺکو خصوصاً اور دیگر انبیاء علیہم السلام کو عموما ًعلم غیب عطا فرمایا ہے۔ ان میں سے بعض آیات حسب ذیل ہیں: تِلْكَ مِنْ اَنْبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَا اِلَیْكَ (ھود،49) ترجمہ کنز العرفان: یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں ۔ عمومی طور پر انبیاء کرام علیہم السلام کو غیب پر مطلع کرنے کا ذکر ان آیا ت میں ہے: وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِه مَنْ یَّشَآءُ (آل عمران،179) ترجمہ کنز العرفان: (اے عام لوگو!)اللہ تمہیں غیب پر مطلع نہیں کرتا البتہ اللہ اپنے رسولوں کو مُنتخب فرمالیتا ہے جنہیں پسند فرماتا ہے۔ عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِه اَحَدًا(الجن،26) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى (الجن،27) ترجمہ کنز العرفان: غیب کا جاننے والا اپنے غیب پر کسی کو اطلاع نہیں دیتا۔ سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔ بعض علماء کی یہ تحقیق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کی طرف صراحتا ًعلم غیب کی نسبت نہیں کی ،بلکہ اظہار غیب اور اطلاع علی الغیب کی نسبت کی ہے۔ اس لیے یوں کہنا چاہیے کہ انبیاءعلیہم السلام پر غیب ظاہر کیا گیا یا ان کو غیب پر مطلع کیا۔ گیا اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے غیر سے علم غیب کی بلا استثناء نفی فرمائی ہے، اس لیے یوں نہیں کہنا چاہیے کہ نبی کریم ﷺکو علم غیب ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ نبی کریم ﷺکو علم غیب دیا گیا، یعنی عبارت میں کوئی ایسا قرینہ ہو جس سے معلوم ہو کہ اس علم سے مراد عطائی ہے، ذاتی نہیں ہے۔ امام احمد رضا قادری رحمۃ اللہ علیہ متوفی 1340ھ لکھتے ہیں: علم جب کہ مطلق بولا جائے خصوصاً جب کہ غیب کی طرف مضاف ہو تو اس سے مراد علم ذاتی ہوتا ہے۔ اس کی تصریح حاشیہ کشاف پر میرسید شریف رحمتہ اللہ علیہ نے کر دی ہے اور یہ یقینا ًحق ہے۔ کوئی شخص کسی مخلوق کے لیے ایک ذرہ کا بھی علم ذاتی مانے یقیناً کا فر ہے۔ امام احمد رضا قادری رحمۃ اللہ علیہ کی اس عبارت سے مذکور الصدر تحقیق کی تائید ہوتی ہے۔

— (ھود،49) (آل عمران،179) (الجن،26) (تبیان القرآن ،ج3،ص474) (الملفوظ، ج 3، ص 47، مطبوعہ نوری کتب خانہ، لاہور)
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں