کیا رسول اللہ ﷺ کو علم غیب دیاگیا تھا؟
رسول اللہ ﷺ کو علم غیب دیے جانے کے متعلق قرآن مجید کی آیات: وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِه مَنْ یَّشَآءُ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِه (آل عمران،179) ترجمہ کنز العرفان: اللہ تمہیں غیب پر مطلع نہیں کرتا البتہ اللہ اپنے رسولوں کو مُنتخب فرمالیتا ہے جنہیں پسند فرماتا ہے تو تم اللہ اور اس کے رسولوں پرایمان لاؤ۔ ذَالِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ (آل عمران،44) یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں۔ عَالِمُ الْغَيْبِ فَلا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ (الجن،26,27) (الله) عالم الغیب ہے سو وہ اپنا غیب کسی پر ظاہر نہیں فرماتا ،ما سوا ان کے جن سے وہ راضی ہے اور وہ اس کے (سب) رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ خود بذریعہ وحی اپنے انبیاء کو جو امورِ غیبیہ بتاتے ہیں وہ حقیقتاً علم غیب نہیں بلکہ غیب کی خبریں ہیں جو انبیاء کو دی گئی ہیں جس کو خود قرآن کریم نے کئی جگہ'' انباء الغیب ''کے لفظ سے تعبیر فرمایا۔ ہمارے نزدیک یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو جو غیب کی خبریں بتلائی گئیں ہیں اس سے ان کو علم غیب حاصل نہیں ہوا، کیونکہ شرح عقائد اور دیگر علم کلام کی کتابوں میں مذکور ہے کہ علم کے تین اسباب ہیں، خبر صادق ، حواس سلیمہ اور عقل اور وحی بھی خبر صادق ہے تو جب انبیاء علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ نے غیب کی خبریں دیں تو ان کو علم غیب حاصل ہو گیا۔ اس لیے صحیح یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو وحی سے علم غیب حاصل ہوتا ہے لیکن یہ علم محیط یا علم ذاتی نہیں ہے۔ آل عمران: 179کی تفسیر میں شیخ محمود حسن دیوبندی متوفی 1339ھ لکھتے ہیں: خلاصہ یہ ہے کہ عام لوگوں کو بلا واسطہ کسی یقینی غیب کی اطلاع نہیں دی جاتی، انبیاء علیہم السلام کو دی جاتی ہے مگر جس قدر خدا چاہے۔