English translation is being prepared. The Urdu source is shown below. View in Urdu →
علمِ غیب

کیا حضور نبی کریم ﷺکا علم غیب دیکھ کر لوگ مسلمان ہوجاتے تھے؟

مختصر جواب
جی ہاں جیسے بدر میں رسول اللہ ﷺ کے غیب کی خبر دینے سے متاثر ہو کر حضرت عباس کا مسلمان ہونا-
حوالہ 1
الانفال، آیت 70
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤىۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ
ترجمہ
اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی)جو قیدی تمہارے ہاتھ میں ہیں ان سے فرماؤ اگر اللہ نے تمہارے دلوں میں بھلائی جانی تو جو تم سے لیا گیا اس سے بہتر تمہیں عطا فرمائے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
— ترجمہ کنز الایمان
تفسیر

امام احمد بن حنبل متوفی 241ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں: امام محمد بن اسحاق نے بیان کیا کہ جس شخص نے عکرمہ سے سنا اس نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی کہ عکرمہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جس شخص نے (جنگ بدر میں )عباس ؓبن عبد المطلب کو گرفتار کیاوہ ابو الیسر کعب بن عمروتھے۔ ان کا تعلق بنو سلمہ سے تھا۔ ان سے رسول اللہ ﷺنے پوچھا: اے ابو الیسر!تم نے اس کو کیسے گرفتار کیا تھا؟ انہوں نے کہا اس معاملہ میں ایک ایسے شخص نے میری مدد کی تھی جس کو میں نے اس سے پہلے دیکھا تھا نہ اس کے بعد ،اس کی ایسی ایسی ہیئت تھی۔ تب رسول اللہ ﷺنے فرمایا !تمہاری مدد ایک مکرم فرشتہ نے کی تھی۔ اور عباس سے فرمایا !اے عباس تم اپنا فدیہ بھی دو اور اپنے بھتیجے عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن الحارث کا فدیہ بھی دو اور اپنے حلیف عقبہ بن حجدم کا فدیہ بھی دو جن کا تعلق بنو الحارث بن فھرسے ہے۔ حضرت عباسؓ نے ان کا فدیہ دینے سے انکار کیا اور کہا میں اس غزوہ سے پہلے اسلام قبول کر چکا تھا۔ یہ لوگ مجھے زبردستی اپنے ساتھ لائے ہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے معاملہ کو خوب جاننے والا ہے اگر تمہارا دعویٰ برحق ہے تو اللہ تعالیٰ تم کو اس کی جزا دے گا۔ لیکن تمہارا ظاہر حال یہ ہے کہ تم ہم پر حملہ آور ہوئے ہو سو تم اپنا فدیہ ادا کرو۔ اور رسول اللہ ﷺاُس سے بیس اُوقیہ سونا (بطور مال غنیمت )وصول کر چکے تھے۔ عباس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ! اُس بیس اُوقیہ سونے کو میرےفدیہ میں کاٹ لیجئے۔ آپ ﷺنے فرمایا ،نہیں !یہ وہ مال ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں تم سے لے کر دیا ہے۔ عباس نے کہا میرے پاس اور مال تو نہیں ہے ، آپﷺ نے فرمایا وہ مال کہاں ہے جو تم نے مکہ سے روانگی کے وقت ام الفضل کے پاس رکھا تھا اس وقت تم دونوں کے پاس اور کوئی نہیں تھا۔ اور تم نے یہ کہا تھا کہ اگر میں اس مہم میں کام آگیا تو اس مال میں سے اتنا فضل کو دینا ،اتنا قثم کو دینا اور اتنا عبد اللہ کو دینا۔ تب عباس نے کہا !اُس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے میرے اور ام الفضل کے سوا اس بات کو اور کوئی نہیں جانتا اور اب مجھے یقین ہو گیا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔

— ( مسند احمد ج 1، ص 353،طبع قدیم، دار الفکر) (تبیان القرآن،ج4،ص702،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ)
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں