English translation is being prepared. The Urdu source is shown below. View in Urdu →

کیا کوئی امتی نبی کو اپنا بھائی کہہ سکتا ہے؟

مختصر جواب
نہیں، کوئی امتی کسی بھی نبی کو اپنا بھائی نہیں کہ سکتا اس کا ثبوت قرآن پاک میں موجود ہے
حوالہ 1
ھود، آیت 50
وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ
ترجمہ
اور عاد کی طرف ان کے ہم قوم ہود کوبھیجا۔ فرمایا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ، تم تو صرف بہتان لگانے والے ہو۔
— ترجمہ کنز العرفان
تفسیر

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھائی کہنے کے عدم جواز پر دلائل: اللہ تعالیٰ انبیاء علیہم السلام کا مالک اور مولیٰ ہے اور انبیاء علیہم السلام اس کے بندے ہیں، وہ انبیاء علیہم السلام کو جو کچھ فرمائے وہ اس کو زیبا ہے، اللہ تعالی ٰحضرت آدم علیہ السلام کے متعلق فرماتا ہے: وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى (طٰہٰ،121) - اور آدم نے اپنے رب کی معصیت کی ،پس وہ بے راہ ہوئے ۔ کیا اس آیت کو دیکھ کر حضرت آدم علیہ السلام کو عاصی اور بے راہ یا گمراہ کہنا جائز ہے؟ علامہ ابن الحاج مالکی متوفی 737 ھ لکھتے ہیں: جس شخص نے اثناءِ تلاوت یا قراءت ِحدیث کے علاوہ حضرت آدم ؑکے متعلق کہا کہ انہوں نے معصیت کی وہ کافر ہو گیا۔ (المدخل ،ج 2، ص 14، دار الفکر ،بیروت) اسی طرح حضرات انبیاء علیہم السلام تواضع اور انکسار سے اپنے متعلق جو کلمات فرمائیں اس سے یہ جواز نہیں نکلتا کہ امتی بھی ان کے متعلق وہ کلمات کہنے کی جرأت کرے۔ دیکھئے حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا: قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا (الاعراف،23) - آدم اور حوا) دونوں نے عرض کیا اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: قَالَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي (القصص،16) (موسیٰ نے) کہا: اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ حضرت یونس علیہ السلام نے فرمایا : لا إلهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ (الانبیاء،87) تیرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں تو سبحان ہے، بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔ کیا ان آیتوں کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو ظالم کہنا قرآن مجید سے ثابت ہے اور ان کو ظالم کہنے کا انکار کرنا قرآن مجید کا انکار کرنا ہے۔ نیز حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن جب لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس شفاعت کی درخواست لے کر حاضر ہوں گے تو وہ فرمائیں گے کہ آج اللہ تعالیٰ اس قدر غضب میں ہے کہ پہلے کبھی اتنے غضب میں تھا اور نہ آئندہ کبھی اتنےغضب میں ہو گا، اس نے مجھ کو ایک درخت سے کھانے سے منع کیا تھا میں نے اس کی معصیت کی۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث: 4712، صحیح مسلم رقم الحدیث: 194سنن الترمذی رقم الحدیث: 2434) اب کیا ان آیات کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت آدم، حضرت موسیٰ اور حضرت یونس علیہم السلام ظالم تھے اور اس حدیث کی وجہ سے کہا جا سکتا ہے کہ حضرت آدم ؑعاصی تھے! اور یہ کہ ان نبیوں کا ظالم اور عاصی ہونا قرآن اور حدیث سے ثابت ہے اور ان کے ظالم ہونے کا انکار کرنا قرآن اور حدیث کا انکار کرنا ہے، (العیاذ باللہ) ہم اس قسم کے استدلال سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی شان کبریائی سے حضرت ھود علیہ السلام کو قوم عاد کا بھائی فرمایا، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہم بھی انبیاء علیہم السلام کو اپنا بھائی کہیں یا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تواضعاً خود کو صحابہ کرام کا بھائی فرمایا، یہ اس کو مستلزم نہیں ہے کہ ہم بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہیں کہ آپ ہمارے بھائی ہیں۔ استدلال اس وقت صحیح ہو تا جب یہ ثابت ہوتا کہ قرآن مجید کی فلاں آیت یا فلاں صحیح حدیث میں تصریح ہے کہ فلاں صالح امتی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا بھائی کہا ہے اور یہ چیز ہرگز ثابت نہیں ہے، لہٰذا امتی کے لیے اپنے نبی کو اپنا بھائی کہنا بھی ثابت نہیں ہے۔ (تبیان القرآن،ج5،ص564،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ) اس کا لفظی ترجمہ ہے : ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ھود کو بھیجا۔ اس میں حضرت ھود علیہ السلام کو قوم عاد کا بھائی فرمایا ہے اور یہ بات معلوم تھی کہ حضرت ھود علیہ السلام ان کے دینی بھائی نہ تھے اور نہ ہی وہ ان کے نسبی بھائی تھے، ان کو قوم عاد کا بھائی صرف اس وجہ سے فرمایا کہ وہ ان کے قبیلہ کا ایک فرد تھے۔ ان کا قبیلہ عرب کا ایک قبیلہ تھا اور وہ لوگ یمن کی جانب رہتے تھے ۔ اس سورت میں جو فرمایا ہے : ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے قبیلہ کے ایک فرد کو نبی بنا کر بھیجا،اسی طرح قوم ثمود کی طرف ان کے قبیلہ کے ایک فرد حضرت صالح علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا،اس سے مکہ والوں پر یہ حجت قائم کرنا مقصود ہے کہ وہ سیدنا محمد ﷺکو نبی اور رسول بنانا بہت مستعد سمجھتے تھے کیونکہ آپﷺ ان ہی کے قبیلہ کے ایک فرد تھے ۔ اللہ تعالی ٰنے یہ ظاہر فرمایا کہ اس میں حیرت اور تعجب کی کیا بات ہے، حضرت ھود علیہ السلام عاد کے قبیلہ کے ایک فرد تھے اور ان کو نبی بنایا گیا اور حضرت صالح علیہ السلام ثمود کے قبیلہ کے ایک فرد تھے اور ان کو نبی بنایا گیا تو (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) بھی تمہارے قبیلہ کے ایک فرد ہیں اور ان کو نبی بنایا گیا ہے تو اس میں حیرت اور تعجب کی کی کیا بات ہے اور یہ کون سی نئی بات ہے ! ( تفسیر کبیر ،ج 6،ص 362، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ،بیروت)

— ( تفسیر کبیر ،ج 6،ص 362، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ،بیروت) (المدخل ،ج 2، ص 14، دار الفکر ،بیروت)( صحیح البخاری رقم الحدیث: 4712، صحیح مسلم رقم الحدیث: 194سنن الترمذی رقم الحدیث: 2434) (تبیان القرآن،ج5،ص564،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ)
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں