کیا اولیاءا للہ کی کرامات قرآن مجید سے ثابت ہیں؟
تفسیر: اولیاء اللہ کی کرامات کے ثبوت میں قرآن مجید کی آیات: قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ (الحجرات،13) ترجمہ کنز العرفان: تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ صاحب ِکرامت کا اطلاق اُس شخص پر ہو گا جو متقی ہو ، اور اصطلاح میں جو کرامت کا معنی ہے یعنی جس متقی شخص سے کسی خلافِ عادت فعل کا ظہور ہو، اس کے ثبوت میں حسب ذیل آیات ہیں: قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ (النمل،40) جس کے پاس کتاب کا علم تھا اس نے کہا: میں اس تخت کو آپ کے پاس پلک جھپکنے سے پہلے لے آتا ہوں تو جب سلیمان نے اس تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا: یہ میرے رب کا فضل ہے۔ علامہ آلوسی نے لکھا ہے کہ یہ تخت دو ماہ کی مسافت پر واقع تھا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی امت کے ایک ولی نے اسے پلک جھپکنے سے پہلے حضرت سلیمان علیہ اسلام کے سامنے حاضر کر دیا ۔ علامہ قرطبی نے لکھا ہے: جمہور کے نزدیک اس شخص کا نام آصف بن برخیا تھا۔ حافظ اسمٰعیل بن عمر بن کثیر متوفی 774ھ لکھتے ہیں: مجاہد ، سعید بن جبير، محمد بن اسحٰق ،زہیر بن محمد و غیر ہم نے کہا ہے کہ وہ تخت یمن میں تھا اور حضرت سلیمان شام میں تھے۔جب آصف بن برخیا نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ وہ بلقیس کے تخت کو لے آئے تو وہ تخت زمین کے اندر سے گھسا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے نکل آیا ۔ ( تفسیر ابن کثیر، ج 3، ص 400، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ،بیروت) نیز علامہ محمود آلوسی متوفی 1270ھ لکھتے ہیں: شیخ اکبر قدس سرہ نے کہا ہے کہ آصف نے عین عرش ( تخت میں تصرف کیا، اس نے عرش کو اس کی جگہ پر معدوم کر دیا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے موجود کر دیا اور آصف کا قول ہی ان کا فعل تھا کیونکہ کامل کا قول اللہ تعالیٰ کے (کن) فرمانے کے حکم میں ہے۔ اس آیت سے اولیاء اللہ کی کرامات کے ثبوت پر استدلال کیا گیاہے۔ (روح المعانی،ج11،ص306،مطبوعہ دارالفکر،بیروت) اولیاء اللہ کی کرامت کے ثبوت میں دوسری آیت یہ ہے: كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ (آل عمران،37) جب بھی زکریا ؑاس کے پاس اس کی عبادت کے حجرے میں داخل ہوتے تو اس کے پاس تازہ رزق (موجود) پاتے، انہوں نےکہا: اے مریم! تمہارے پاس یہ (رزق) کہاں سے آیا؟ مریمؑ نے کہا: یہ (رزق) اللہ کے پاس سے آیا ہے، بے شک اللہ جسے چاہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔ حافظ اسمٰعیل بن عمر بن کثیر متوفی 774 ھ لکھتے ہیں: مجاہد ، عکرمہ، سعید بن جبیر، ابو الشعثاء، ابراہیم نخعی، ضحاک، قتادہ اور ربیع بن انس وغیر ہم نے کہا ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام حضرت مریم علیہاالسلام کے پاس گرمیوں کے پھل سردیوں میں دیکھتے تھے اور سردیوں کے پھل گرمیوں میں دیکھتے تھے اور اس میں اولیاء اللہ کی کرامت پر دلیل ہے اور سنت میں اس کی بہت نظائر ہیں ۔ (تفسیر ابن کثیر ،ج ۱1،ص 407، مطبوعہ دار الفکر ،بیروت ) اس سلسلہ میں یہ آیات ہیں: اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْـكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْـكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْـكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًا ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا (الکہف،9.12) کیا آپ نے سمجھا کہ اصحاب کہف (غار والے) اور کتبے والے، ہماری نشانیوں میں سے ایک عجیب نشانی تھے ۔ جب ان نوجوانوں نے نمار میں پناہ لی تو کہا: اے ہمارے رب! ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما، اور ہمارے کام میں ہماری کامیابی کے اسباب مہیا فرما دے ۔ پھر ہم نے انہیں غار میں کئی سال تک گہری نیند سلا دیا۔ پھر ہم نے انہیں (نیند سے) اٹھایا تاکہ ہم یہ ظاہر کر دیں کہ غار میں ان کے ٹھہرنے کی مدت کو دو جماعتوں میں سے کس نے زیادہ یاد رکھا ہے ۔ ظاہر قرآن اور حضرت ابن عباس کی روایت کے مطابق اصحاب کہف سات نوجوان تھے ۔ یہ حضرت عیسٰی علیہ السلام سے پہلے دقیانوس بادشاہ کے زمانہ میں تھے ۔ دقیانوس لوگوں کو بت پرستی پر مجبور کرتا تھا، ان نوجوانوں کی فطرت سلیمہ تھی، ان کا عقیدہ تھا کہ عبادت صرف اللہ کی ہونی چاہیے ۔ یہ بادشاہ کے ظلم سے ڈر کر ایک غار میں چلے گئے وہاں اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند مسلط کردی اور یہ تین سو، یا تین سو نو سال تک سوتے رہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو نیند سے اٹھا دیا۔ یہ صبح کے وقت سوئے تھے ،اُٹھے تو دن ڈھل رہا تھا، یہ سمجھے کہ یہ دن کا کچھ وقت سوئے ہیں۔ ان میں ایک جوان شہر میں کچھ کھانے پینے کی چیزیں لینے گیا۔ وہاں جا کر پتا چلا کہ ان کو تو کئی صدیاں گزر چکی ہیں، ان کا سکہ دیکھ کر لوگ بہت حیران ہوئے کہ یہ کسی بادشاہ کا سکہ ہے، بالآخر معلوم ہوا کہ یہ وہی جوان ہیں جو جو کسی نے زمانہ میں غائب ہو گئے تھے، اس زمانہ میں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے میں بہت اختلاف ہوتا تھا، ان کے واقعات سے حیات بعد الموت پر دلیل قائم ہو گئی۔ امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606ھ لکھتے ہیں: ہمارے اصحاب صوفیہ نے اس آیت سے کرامات کے قول کی صحت پر استدلال کیا ہے اور یہ استدلال بالکل ظاہر ہے۔ ( تفسیر کبیر ،ج 7، ص 430، مطبوعہ دار الفکر ،بیروت) (تبیان القرآن،ج5،ص435،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ)
اس سوال کے دیگر الفاظ
- کیا قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی کرامات کی مثالیں ملتی ہیں؟phrasing
- کیا انبیائے کرام علیہم السلام کے علاوہ دوسرے نیک بندوں سے بھی غیر معمولی واقعات ظاہر ہو سکتے ہیں؟phrasing