کیا اولیاء اللہ کی محبت آخرت میں کام آئے گی؟
اس آیت میں دوستی کی نفی فرمائی ہے کہ قیامت کے دن کسی کی دوستی کسی کے کام نہیں آئے گی اور بعض آیات سے پتا چلتا ہے کہ اس دن متقین کی دوستی کام آئے گی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: الاخِلاءُ يَوْمِئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ (الزخرف،67) گہرے دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے سوائے متقین کے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کی دنیا میں دوستی طبیعت کے میلان اور نفس کی رغبت کی وجہ سے ہو گی وہ قیامت کے دن ایک دو سرے کے دشمن ہوں گے اور جن لوگوں کی دوستی محض اللہ کے لیے اور دین کی وجہ سے ہو گی وہ دوستی اُس دن کام آئے گی، جیسے مسلمان اولیاء اللہ سے اور علماء دین سے محبت رکھتے ہیں۔ یہ دوستی محض دین کی وجہ سے اور اللہ کے لیے ہوتی ہے، جیسے حضرت اعظم شیخ عبد القادر جیلانی اور حضرت علی ہجویری رحمہما اللہ سے مسلمان محبت رکھتے ہیں اور امام ابو حنیفہ اور امام بخاری رحمہ اللہ سے محبت رکھتے ہیں۔ (تبیان القرآن،ج6،ص190،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ)
اس سوال کے دیگر الفاظ
- کیا اولیاء کرام سے عقیدت و محبت قیامت کے دن فائدہ دے گی؟phrasing
- کیا اولیاء اللہ کی محبت انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے؟phrasing