English translation is being prepared. The Urdu source is shown below. View in Urdu →
اولیاء اللہ سے محبت

کیا اولیاء اللہ کی محبت آخرت میں کام آئے گی؟

مختصر جواب
جی ہاں ،اولیاء اللہ کا مقام و مرتبہ بے شمار جگہ پر قرآن و حدیث میں آیا ہے اس لئے ان سے محبت و عقیدت رکھنا یہ ایمان کی نشانی ہے اور اس کا اجر وثواب بھی ملے گا
حوالہ 1
ابراھیم
قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ
ترجمہ
میرے ان بندوں سے فرماؤ جو ایمان لائے کہ نماز قائم رکھیں اور ہمارے دئیے میں سے کچھ ہماری راہ میں چھپے اور ظاہر خرچ کریں اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ سوداگری ہوگی نہ یارانہ۔
— ترجمہ کنز الایمان
تفسیر

اس آیت میں دوستی کی نفی فرمائی ہے کہ قیامت کے دن کسی کی دوستی کسی کے کام نہیں آئے گی اور بعض آیات سے پتا چلتا ہے کہ اس دن متقین کی دوستی کام آئے گی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: الاخِلاءُ يَوْمِئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ (الزخرف،67) گہرے دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے سوائے متقین کے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کی دنیا میں دوستی طبیعت کے میلان اور نفس کی رغبت کی وجہ سے ہو گی وہ قیامت کے دن ایک دو سرے کے دشمن ہوں گے اور جن لوگوں کی دوستی محض اللہ کے لیے اور دین کی وجہ سے ہو گی وہ دوستی اُس دن کام آئے گی، جیسے مسلمان اولیاء اللہ سے اور علماء دین سے محبت رکھتے ہیں۔ یہ دوستی محض دین کی وجہ سے اور اللہ کے لیے ہوتی ہے، جیسے حضرت اعظم شیخ عبد القادر جیلانی اور حضرت علی ہجویری رحمہما اللہ سے مسلمان محبت رکھتے ہیں اور امام ابو حنیفہ اور امام بخاری رحمہ اللہ سے محبت رکھتے ہیں۔ (تبیان القرآن،ج6،ص190،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ)

— (تبیان القرآن،ج6،ص190،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ)
حوالہ 2
الزخرف، آیت 67
اَلْاَخِلَّٓاءُ يَوْمِئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ
ترجمہ
اس دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے سوائے پرہیزگاروں کے۔
— کنز العرفان

اس سوال کے دیگر الفاظ

  • کیا اولیاء کرام سے عقیدت و محبت قیامت کے دن فائدہ دے گی؟
    phrasing
  • کیا اولیاء اللہ کی محبت انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے؟
    phrasing
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں