کیا ہم حضور نبی کریمﷺ سے شفاعت طلب کر سکتے ہیں؟
اس آیت مبارکہ میں ہمیں بتایا گیا کہ جب تم اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھو تو میرے محبوب کے پاس جا کر شفاعت طلب کرو۔ شفاعت کے متعلق چند احادیث: 1۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ قیامت کے دن آپ میرے لیے شفاعت کریں، آپ نے فرمایا میں کرنے والا ہوں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں آپ کو کہاں تلاش کروں؟ آپ نے فرمایا تم سب سے پہلے مجھے صراط پر تلاش کرنا' میں نے عرض کیا اگر میں صراط پر آپ سے ملاقات نہ کر سکوں؟ آپ نے فرمایا: پھر تم مجھے میزان کے پاس طلب کرنا، میں نے عرض کیا اگر میں میزان کے پاس آپ سے ملاقات نہ کر سکوں !فرمایا پھر تم مجھے حوض کے پاس طلب کرنا کیونکہ میں ان تین مقامات سے تجاوز نہیں کروں گا۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث،2433) 2۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرنبی کی ایک دعا قبول ہوتی ہے۔ پس ہر نبی نے وہ دعا جلد مانگ لی اور میں نے اس دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے چھپا کر رکھا ہوا ہے اور یہ ان شاء اللہ میری امت میں سے ہر اس شخص کو حاصل ہوگی جو اس حال میں فوت ہواکہ اس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہو۔ (صحیح البخاري رقم الحديث : ۶۳۰۴،صحیح مسلم رقم الحدیث ۱۹۹ مسند احمد ج ۲ ص ۱۳۸۶ موطا امام مالک رقم الحدیث: ۱۳۹ سخن دارمی رقم اله بیش ۱۲۸۰۹ سفن الترندی رقم الحدیث: ۱۳۶۰۲ سفن ابن ماجه رقم الحدیث ۴۳۰۷) 3۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری شفاعت میری امت کے اہل کبائر ( کبیرہ گناہ کرنے والوں) کے لیے ہوگی ( صغائر کی مغفرت، کبائر سے اجتناب اور نیک کام کرنے کی وجہ سے بغیر شفاعت کے محض اللہ کے فضل سے ہو جائے گی )۔ (سنن ابو د اؤدر قم الحدیث 4739،سنن الترمذی رقم الحدیث: ۱۲۳۳۵ مسند احمد ج ۳ ص ۳۱۳) 4۔حضرت جابر نے کہا جس شخص کے کبیرہ گناہ نہ ہوں اس کا شفاعت سے کیا تعلق ہے! (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث،431) حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے رب کی طرف سے میرے پاس ایک آنے والا آیا اور اس نے مجھے شفاعت کے درمیان اور اس میں اختیار دیا کہ میری نصف امت جنت میں داخل کر دی جائے تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا اور یہ ہر اس شخص کو حاصل ہو گی جو اس حال میں مرا ہو کہ اس نے شرک نہ کیا ہو۔(سنن الترمذی رقم الحدیث،2441) 6۔حضرت عمران بن الحصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری شفاعت کی وجہ سے ایک قوم کو جہنم سے نکالا جائے گا ان کا نام جہنمیین رکھا جائے گا۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث،4315) 7۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن میرے پیروکار تمام انبیاء سے زیادہ ہوں گے اور میں سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا۔ (صحیح البخاري رقم الحديث : 6305) (تبیان القرآن،ج7،ص464،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ)
اس سوال کے دیگر الفاظ
- کیا حضور اکرم ﷺ اپنی امت کی شفاعت فرمائیں گے؟phrasing
- کیا نبی کریم ﷺ سے شفاعت کی امید رکھنا شرعاً درست ہے؟phrasing