ایصالِ ثواب

کیا قبر پر قرآن مجید پڑھنے سے قبر والے کو فائدہ پہنچتا ہے؟

QB-00052·منظوری: asma asghar
مختصر جواب
جی ہاں !بالکل قبر پر قرآن مجید کی تلاوت کرنے سے عذاب میں تخفیف ہوتی ہے اور میت کو قرآن مجید کا ثواب پہنچتا ہے اس کے دلائل احادیث مبارکہ سے ملتے ہیں ۔
حوالہ 1
(Word doc — بنی اسرائیل)
تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰـكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرً (بنی اسرائیل،44)
ترجمہ
ساتوں آسمان اور زمین اور جو مخلوق ان میں ہے سب اسی کی پاکی بیان کرتے ہیں اور کوئی بھی شے ایسی نہیں جو اس کی حمد بیان کرنے کے ساتھ اس کی پاکی بیان نہ کرتی ہو لیکن تم لوگ ان چیزوں کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ۔ بیشک وہ حلم والا، بخشنے والا ہے۔
ترجمہ (other)
تفسیر

قبرپر قرآن مجید پڑھنے سے عذاب میں تخفیف ہونا: قبر پر قرآن مجید کی تلاوت کرنے سے عذاب میں تخفیف ہوتی ہے اور میت کو قرآن مجید کا ثواب پہنچانا جائز ہے اور یہ ثواب اس کو پہنچتا ہے اس لئے ہم اس کے ثبوت میں چند احادیث پیش کر رہے ہیں ۔ یہ تمام احادیث علامہ قرطبی نے اپنی کتاب'' التذ کرہ ''ج 1، ص 126میں بیان کیں ہیں اور ان سے اس موقف پر استدلال کیا ہے: حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : جو شخص قبرستان سے گزرا اور اس نے گیارہ مرتبہ قل ھو اللہ احد پڑھ کر اس قبرستان کے مردوں کو بخش دیا تو اس کو قبرستان کے مردوں کی تعداد کے برابر قل هو الله احد پڑھنے کا اجر ملے گا۔ (کنز العمال رقم الحدیث: 42596) حضرت عبداللہ عمر رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص فوت ہو جائے تو اس کو رکھو نہیں بلکہ جلدی قبر کی طرف لے جاؤ اور اس کے سرہانے سورہ فاتحہ پڑھو اور اس کے پَیروں کی جانب سورہ البقرہ کی آخری آیات پڑھو۔ (المعجم الکبیر ،رقم الحدیث: 13613) عبدالرحمان بن العلاء بن اللحاج بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے کہا اے میرے بیٹے ! جب میں مر جاؤں تومیری لحد بنانا اور مجھے قبر میں رکھتے وقت **بسم الله وعلى ملۃ رسول اللہ **پڑھنا، پھر میری قبر پر مٹی ڈال دینا اور میرے سرہانے سورہ بقرہ کی ابتدائی اور آخری آیات پڑھنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے، اور حضرت ابن عمر بھی اس کی وصیت کرتےتھے ۔ (المعجم الکبیر ،ج 19،ص 320، سنن کبری ٰللبیہقی، ج 2، ص 56) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قبر میں مردہ اس طرح ہوتا ہے جس طرح کوئی شخص غرق ہو رہا ہو اور اس کی مدد کی جارہی ہو وہ اپنے باپ، بھائی اور دوست کی دعاؤں کا منتظر ہوتا ہے ، جب ان کی دعائیں اسے ملتی ہیں تو وہ اس کو دنیا اور مافیہا سے زیادہ محبوب ہوتی ہیں اور مردوں کے لیے زندوں کے تحفے دعا اور استغفار ہیں ۔ (کنز العمال، رقم الحدیث: 42971) حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جو شخص قبرستان میں داخل ہوا اور اس نے سورہ یسین پڑھی اللہ تعالیٰ اس قبرستان کے مردوں کے عذاب میں تخفیف کر دیتا ہے اور جتنے مردے ہوں اتنی نیکیاں اس شخص کو عطا کرتا ہے ۔ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے مردوں کے پاس سورۃ یسین پڑھو ۔ (سنن ابو داؤ د،رقم الحدیث: 3105، سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 28) (تبیان القرآن،ج6،ص726،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ)

اس سوال کے دیگر الفاظ

  • قبر پر قرآن پڑھنے سے میت کو فائدہ ملتا ہے؟
    seo
  • کیا قبرستان میں قرآن خوانی جائز ہے اس کا ثواب ملتا ہے ؟
    educational

متعلقہ سوالات

اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں