توسل

کیا اولیا ء اللہ کے مزار پر جا کر مرادیں مانگنا جائز ہے؟

QB-00053·منظوری: asma asghar
مختصر جواب
جی ہاں !مزارات پر جا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا جائز ہے کیوں کہ اولیاءاللہ مقرب بندے ہیں لہذا ان مقرب ہستیوں (صاحب مزار ) کے وسیلہ سے دعائیں قبول ہوتی ہیں اور وہاں جا کر یہ کہنا کہ ہمارا فلاں کام ان کے وسیلہ سے ہوجائے یا مشکل دور ہوجائے یہ دعا اپنے گھر میں بھی کی جاسکتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کے پاس جا کر دعا کی جائے تو دعا کا قبول ہونا زیادہ متوقع ہے اور نیک بندوں پر جو برکتیں نازل ہوتی ہیں وہ بھی شامل حال ہوں گی۔
حوالہ 1
(Word doc — بنی اسرائیل)
لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا (مریم،18)
ترجمہ
میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں۔
ترجمہ کنزالایمان
تفسیر

اولیاء اللہ کے مزارات پر مرادیں مانگنا:

بیٹا دینا حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی صفت ہے حضرت جبرئیل علیہ السلام نے جو کہا تھاکہ میں تمہیں ایک پاکیزہ بیٹا دوں یہ اسناد مجازی ہے، بعض لوگ اولیاء اللہ کے مزارات پر جا کر دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس ولی کے وسیلہ سے یا اس کی دعا سے ان کو بیٹا دے دے یا ان کا کوئی اور کام بنا دے اور جب ان کے ہاں بیٹا ہو جائے تو کہتے ہیں کہ یہ فلاں ولی نے بیٹا دیا ہے یہ بھی اسناد مجازی ہے اور حضرت جبرئیل علیہ السلام کے قول کی طرح ہے۔

البتہ مزار پر جا کر یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ اے صاحب مزار ! آپ ہمیں بیٹا دے دیں اگر چہ اس میں بھی اسناد مجازی کی تاویل ہو سکتی ہے کہ آپ ہمارے لیے بیٹے کی دعا کر دیں، لیکن یہ کلمات موہم شرک میں اس لیے صاف اور سیدھا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالی سے دعا کریں کہ وہ اپنے اس مقرب بندہ کے وسیلہ سے ہماری دعا قبول کرے اور ہمار ا فلاں کام کر دے یہ دعا اپنے گھر میں بھی کی جاسکتی ہے لیکن اللہ کے نیک بندوں کے پاس جا کر دعا کی جائے تو دعا کا قبول ہونا زیادہ متوقع ہے اور نیک بندوں پر جو برکتیں نازل ہوتی ہیں وہ بھی شامل حال ہوں گی اور نذر صرف اللہ کی ہوتی ہے اولیاء اللہ کی نذر ماننا جائز نہیں ہے اور صدقہ و خیرات کر کے اس کا ثواب انہیں پہنچانا ایک الگ چیز ہے۔

تبیان القرآن،ج7،ص265،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ

اس سوال کے دیگر الفاظ

  • کیا مزارات پر جانا منت ماننا شرک ہے ؟
    seo
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں