انبیاء کرام

کیا انبیاء کرام علیہم السلام پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے؟

QB-00055·منظوری: asma asghar
مختصر جواب
زکوٰۃ مَیل کچیل دُور کرتی ہے اور انبیاء کرام علیہم السلام معصوم عن الخطا یعنی گناہوں سے پاک ہوتے ہیں اس لئے اُن پر زکوۃ فرض نہیں۔
حوالہ 1
(Word doc — النمل)
الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ (لقمٰن،4)
ترجمہ
وہ جو نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں اور آخرت پر یقین لائیں۔
ترجمہ کنزالایمان
تفسیر

انبیاءکرام علیہم السلام پر زکوۃ کا فرض نہ ہونا دلائل کے ساتھ

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی 1252ھ اس کی شرح میں لکھتے ہیں :

انبیاء (علیہم السلام) پر زکوۃ اس لیے فرض نہیں ہے زکوۃ میل کچیل سے پاک کرتی ہے اور انبیاء میل کچیل سے منزہ ہوتے ہیں ، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضرت عیسی (علیہ السلام) نے فرمایا :

میں جب تک زندہ ہوں اللہ نے مجھے نماز پڑھنے اور زکوۃ ادا کرنے کی وصیت کی ہے۔ (مریم : 31)

اس سے مراد نفس کی پاکیزگی ہے یعنی میں اپنے نفس کو ان رذائل سے پاک رکھوں جو انبیاء کرام کے مقام کے نا مناسب ہیں ،یا مجھے زکوٰۃ کے احکام کی تبلیغ اور پہنچانے کی وصیت کی ہے ، اور اس سے زکوٰۃ فطر مراد نہیں ہے ،کیونکہ زکوٰة کی عدم فرضیت انبیاء (علیہم السلام) کی خصوصیات میں سے ہے اور اس خصوصیت کے اعتبار سے زکوٰۃ مال اور زکوٰۃ بدن میں کوئی فرق نہیں ہے۔ (ردالمختار ،ج 3، ص 160، داراحياء التراث العربی بیروت )

تبیان القرآن،ج9،ص216،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ

اس سوال کے دیگر الفاظ

  • کیا انبیاء کرام علیہ السلام بھی احکام شرعیہ کے پابند ہوتے ہیں ؟
    seo
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں