فقہ — عبادات

کیا اذان کے دوران انگوٹھے چومنا جائز ہے؟

QB-00067·منظوری: asma asghar
مختصر جواب
جی ہاں ! نبی پاک ﷺ کا نام نامی سن کر ادب سے انگوٹھے چوم لینا ایک مستحسن عمل ہے ،نہ کرنے والے پر کوئی عتاب نہیں ہے لہٰذا اگر کوئی یہ عمل کرے تو اس کو بدعت یا شرک بھی نہیں کہ سکتے اور جو نہ کرے اس پر کوئی وعید بھی نہیں ۔
حوالہ 1
(Word doc — حم السجدہ)
وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ (حمٓ السجدہ،33)
ترجمہ
اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے اور کہے میں مسلمان ہوں۔
ترجمہ کنزالایمان
تفسیر

اذان میں اشهد ان محمدا رسول الله سن کر انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھنا:

علامہ شمس الدین محمد الخراسانی القھستانی المتوفی 962ھ لکھتے ہیں:

علامہ اسماعیل حقی حنفی متوفی 1137ھ لکھتے ہیں:

اذان کے کلمات سن کر ان کے جواب میں وہی کلمات کہنا مستحب ہے اور جب رسالت کی شہادت سے تو پہلی شہادت سن کر کہے: " صلی الله تعالی علیک یا رسول الله “ اور دوسری شہادت سن کر کہے: ” قرة عينی بک یا رسول الله پھر اپنے دونوں انگوٹھے چوم کر اپنی آنکھوں پر رکھے اور کہے: اللهم متعنى بالسمع والبصر “

(اے اللہ ! میری سماعت اور بصارت سے مجھ کو فائدہ پہنچا ) ۔

(جامع الرموز ،ج اص ۱۲۵ ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی )

علامہ سید محمد امین بن عمر بن عبد العزیز ابن عابدین شامی متوفی ۱۲۵۲ ھ نے مذکور الصدر عبارت کو نقل کرنے کے بعد کنز العباد کے حوالے سے لکھا ہے جو انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی جنت کی طرف قیادت کریں گے اور لکھا ہے کہ اسی طرح فتاویٰ صوفیہ میں بھی ہے اور کتاب الفردوس میں ہے : جس نے اذان میں اشھد ان محمدا رسول اللہ سننے کے بعد اپنے انگوٹھوں کو چوما میں اس کی قیادت کروں گا اور اس کو جنت کی صفوں میں داخل کروں گا۔

(رد المحتار ج ۲ ص ۲۳ ۶۲۰ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۱۹ھ )

علامہ سید احمد بن محمد الطحطاوی متوفی ۱۲۳۱ھ نے کنز العباد اور قہستانی کی عبارت نقل کرنے کے بعد لکھا ہے: امام دیلمی نے کتاب الفردوس میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً یہ روایت ذکر کی ہے کہ جس نے اذان میں اشھد ان محمدا رسول اللہ “ سن کر انگشت شہادت کو چوم کر آنکھوں پر لگایا میں اس کی شفاعت کی شہادت کروں گا اسی طرح حضرت خضر علیہ السلام سے بھی منقول ہے اور فضائل میں اس قسم کی احادیث پر عمل کیا جاتا ہے۔

(حاشیۃ الطحطاوی ص ۲۰۶-۱۲۰۵ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۳۱۸ھ )

تبیان القرآن،ج10،ص497،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ

اس سوال کے دیگر الفاظ

  • کیا صحابہ کرام انگوٹھے چومتے تھے ؟
    seo
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں