محبتِ نبوی ﷺ

بِن دیکھے ایمان لانے والوں کے بارے نبی پاکﷺنے کیافرمایا؟

QB-00070·منظوری: asma asghar
مختصر جواب
حضور ﷺنے فرمایا:میری امت میں مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو میرے بعد آئیں گئے ان میں سے ایک شخص یہ چاہے گا کہ کاش! اس کا سارا مال اور اس کے سارے اہل جاتے رہیں اور وہ مجھے ایک نظر دیکھ لے ۔
حوالہ 1
(Word doc — الجاثیہ)
وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ (الجاثیہ،4)
ترجمہ
اور تمہاری پیدائش میں اور جو جو جانور وہ پھیلاتا ہے ان میں نشانیاں ہیں یقین والوں کے لیے۔
ترجمہ کنزالایمان
تفسیر

ان لوگوں کی مدح میں احادیث جو آپ کو بن دیکھے آپ پر ایمان لے آئے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

میری امت میں مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو میرے بعد آئیں گئے ان میں سے ایک شخص یہ چاہے گا کہ کاش! اس کا سارا مال اور اس کے سارے اہل جاتے رہیں اور وہ مجھے ایک نظر دیکھ لے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث: ۲۸۳۲، مسند احمد ج ۲ ص ۴۱۷ )

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

میری امت کی مثال بارش کی طرح ہے کوئی از خود نہیں جانتا کہ اس کے اول میں خیر ہے یا اس کے آخر میں خیر ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث: ۲۸۶۹، مسند احمد ج ۳ ص ۱۳۰)

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ سے) پوچھا:

تمہارے نزدیک مخلوق میں سب سے عمدہ ایمان لانے والے کون ہیں؟ صحابہ نے کہا: فرشتے آپ نے فرمایا: وہ ایمان کیوں کر نہیں لائیں گے حالانکہ وہ اپنے رب کے پاس ہیں، صحابہ نے کہا: پھر انبیاء علیہم السلام ہیں آپ نے فرمایا: وہ ایمان کیوں کر نہیں لائیں گے حالانکہ ان کے اوپر وحی نازل ہوتی ہے صحابہ نے کہا: پھر ہم ہیں، آپ نے فرمایا: تم ایمان کیوں کر نہیں لاؤ گے حالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے نزدیک تمام مخلوق میں سب سے عمدہ ایمان لانے والے وہ لوگ ہیں جو میرے بعد ہوں گئے وہ ان صحیفوں کو پائیں گے جن میں اللہ کی کتاب ہوگی اور وہ اس پوری کتاب پر ایمان لائیں گے ۔ ( دلائل النبوۃ للبیہقی ج ۶ ص ۵۳۸)

عبد الرحمن بن العلاء الحضرمی روایت کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع کرنے والے ایک شخص نے مجھ سے کہا: اس امت کے آخر میں ایسے لوگ ہوں گے جن کو پہلوں کی طرح اجر ملے گا وہ نیکی کا حکم دیں گے اور بُرائی سے منع کریں گے اور فتنہ باز لوگوں سے قتال کریں گے ۔ ( دلائل النبوۃ ج ۶ ص ۵۱۳)

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس شخص کے لیے ایک خوشی ہو جس نے مجھ کو دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا اور اس شخص کے لیے سات خوشیاں ہوں جس نے مجھ کو نہیں دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا۔

ابو محیر ز بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک صحابی رسول ابی جمعہ سے کہا: ہمیں ایسی حدیث سنائیں جس کو آپ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو انہوں نے کہا: ہاں! میں تم کو ایک جید حدیث سناتا ہوں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ناشتہ کیا اور ہمارے ساتھ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح بھی تھے، انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! کیا ہم سے افضل بھی کوئی ہے ہم اسلام لائے اور ہم نے آپ کے ساتھ جہاد کیا آپ نے فرمایا : ہاں! بو لو ! جو لوگ تمہارے بعد آئیں گے وہ مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھ کو دیکھا نہیں ہو گا۔ (مسند احمد ج ۲ ص ۱۰۶ سنن دارمی رقم الحدیث: ۲۷۴۴)

تبیان القرآن،ج10،ص792،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ

اس سوال کے دیگر الفاظ

  • کیا قیامت کے روز ہر مومن کو نبی کریم ﷺکا دیدار ہوگا ؟
    educational
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں