انبیاء کرام اور اولیاء اللہ کے علم غیب میں کیافرق ہے؟
انبیاءعلیہم السلام اوراولیاءکرام کےعلم غیب کی تحقیق:
علامہ اسماعیل حقی متوفی ۱۱۳۷ھ لکھتے ہیں:
اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف اللہ سبحانہ کے پیغام کو پہنچانے کے لیے مبعوث ہوئے اور آپ کو اس لیے نہیں بھیجا گیا کہ آپ لوگوں کو ہدایت یافتہ بنا دیں، لوگوں کو ہدایت یافتہ بنانا یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور یہ کہ غیب کا علم بالذات اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اور انبیاء علیہم السلام نے جو غیب کی خبریں دیں ہیں وہ وحی کے واسطے سے دی ہیں اور اولیاء کرام نے جو غیب کی خبریں دی ہیں وہ الہام کے واسطے سے دی ہیں اور اللہ سبحانہ کے علم عطا کرنے سے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قیامت کی علامتیں بتائیں کہ آخر زمانہ میں بدعات کا غلبہ ہو گا، یہ بھی وحی سے بتائی ہیں، اسی طرح آپ نے فرمایا: جو شخص سب سے پہلے اس دروازہ سے داخل ہو گا وہ جنتی ہوگا، پھر حضرت عبداللہ بن سلام داخ داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ان کے پاس گئے اور ان کو اس بشارت کی خبر دی اور ان سے پوچھا: آپ بتائیں کہ آپ کا وہ کون ساعمل ہے جس پر آپ کو بہت اعتماد ہے؟ انہوں نے کہا: میں بہت کمزور شخص ہوں اور مجھ کو جس عمل پر زیادہ اعتماد ہے وہ یہ ہے کہ میرا سینہ صاف ہے ( میں کسی کے خلاف کینہ نہیں رکھتا ) اور میں بے مقصد کاموں میں نہیں پڑتا۔
اور سید الطائفہ جنید بغدادی قدس سرہ نے کہا: مجھ سے میرے ماموں السری السقطی نے کہا: لوگوں کو وعظ اور نصیحت کیا کرو اور میں اپنے آپ کو وعظ اور نصیحت کے لائق نہیں سمجھتا تھا، پھر مجھے خواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اور وہ جمعہ کی شب تھی آپ نے فرمایا: لوگوں کو وعظ کیا کرؤ میں بیدار ہوا اور اپنے ماموں کے پاس گیا تو انہوں نے کہا: تم نے اس وقت تک میری بات کی تصدیق نہیں کی جب تک کہ تم کو رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی جانب سے حکم نہیں دیا گیا دوسرے دن میں لوگوں کو نصیحت کرنے بیٹھ گیا، میرے سامنے ایک نصرانی لڑکا آ کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا : اے شیخ ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کا کیا معنی ہے؟
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کی فراست سے بچو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی:
إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ
بے شک گہری نظر سے دیکھنے والوں کے لیے اس قوم لوط کے عذاب میں ضرور بہت نشانیاں ہیں۔( الحجر : ۷۵)
(سنن ترمذی رقم الحدیث: ۳۱۲۷ تاریخ كبير للبخاری رقم الحدیث: ۱۵۲۹ الضعفاء العقیلی ج ۲ ص ۱۲۹ حلیة الاولیاء ج ۱۰ ص 280)
جنید بغدادی نے پہلے اپنا سر جھکا یا پھر سر او پر اٹھا کر کہا: تم اب اسلام قبول کر لو تمہارے اسلام قبول کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ اور یہ اس وجہ سے ہوا کہ اللہ تعالٰی نے جنید کو اس مقام کی معرفت کرادی تھی ۔ (روح البیان جز ۸ ص ۶۳۱، دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۲۱ھ )
علامہ اسماعیل حقی نے یہ کہا تھا کہ اللہ تعالی انبیاء علیہم السلام کو علم غیب وجی سے عطا فرماتا ہے اور اولیاء کرام کو غیب الہام سے عطا فرماتا ہے انہوں نے اس سلسلہ میں ایک مثال حدیث سے دی ہے اور ایک مثال جنید کے واقعہ سے دی ہے۔ ْ
علامہ سید محمود آلوسی متوفی ۲۷۰ ۱ ھ اس سلسلہ میں لکھتے ہیں:
الاحقاف :9 میں ان لوگوں کا رد ہے جو بعض اولیاء کے لیے ہر چیز کا علم کلیات اور جزئیات سے ثابت کرتے ہیں اور مجھ سے ایک شخص نے کہا: حضرت شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ کو ہر چیز کا علم ہے حتی کہ ان کو میرے بالوں کے اگنے کی جگہ کا بھی علم ہے حالانکہ اس قسم کا دعوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی نہیں کرنا چاہیے چہ جائیکہ آپ کے غیر کی طرف ایسی بات منسوب کی جائے۔ پس بندہ کو اپنے مولیٰ سے ڈرنا چاہیے اور حضرت عثمان بن مظعون کے متعلق جو حدیث گزر چکی ہے اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو حضرت عثمان بن مظعون سے کم درجہ کے لوگوں کے لیے جنت اور کرامت کا دعوی کرتے ہیں اور ان لوگوں کے متعلق جن کے حق میں مخبر صادق علیہ السلام نے بشارت نہیں دی' ہاں! مسلمان زندہ ہوں یا مردہ ان کے متعلق حسن ظن رکھنا چاہتے اور ہر ایک کے لیے خیر کی امید رکھنی چاہیے۔ پس اللہ تعالی ارحم الراحمین ہے۔ (روح المعانی جز ۲۶ ص ۱۷ دار الفکر بیروت ۱۴۱۷ھ )
اس سوال کے دیگر الفاظ
- کیا اولیاء کرام بھی غیب کی باتوں کو جان سکتے ہیں ؟seo