فقہ — نماز

مغرب کی جماعت سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنا کیسا؟

QB-00074·منظوری: asma asghar
مختصر جواب
صحابہ کرام کے عمل سے ثابت ہے مگر نبی پاک ﷺنے ادا نہیں فرمائی ۔اس لئے افضل یہ ہے کہ اذان مغرب کے بعد فوراً مغرب کی نماز ادا کی جائے۔ذیل میں دلائل موجود ہیں۔
حوالہ 1
(Word doc — قٓ)
فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِ (قٓ،39)
ترجمہ
تو ان کی باتوں پر صبر کرو اور سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بیان کرو۔
ترجمہ کنزالعرفان
تفسیر

مغرب کی نماز سےپہلےدورکعت نمازسنت پڑھنےکی تحقیق:

بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ قبل طلوع الشمس “ سے مراد نماز فجر سے پہلے کی دوسنتیں ہیں اور قبل الغروب سے مراد مغرب کی نماز سے پہلے کی دوسنتیں ہیں ۔ نماز مغرب سے پہلے دوسنتیں پڑھنے کی دلیل یہ حدیث ہے:

ثمامہ بن عبد اللہ بن انس بیان کرتے ہیں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے اصحاب فہم مغرب سے پہلے دو رکعت نماز پڑھتے تھے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مدینہ میں تھے جب مؤذن مغرب کی اذان دیتا تو صحابہ جلدی سے مسجد کے ستونوں کے پیچھے جاتے اور دو رکعت نماز پڑھتے اور اس قدر لوگ یہ دو رکعت نماز پڑھتے تھے کہ کوئی مسافر مسجد میں آتا تو یہ سمجھتا تھا کہ جماعت ہو چکی ہے۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث: ۸۳۷)

ائمہ ثلاثہ کے نزدیک مغرب کی اذان کے بعد جماعت سے پہلے دو رکعات نماز پڑھنا سنت ہے اور اب حرمین شریفین میں ائمہ ثلاثہ کے مقتدی یہ نماز پڑھتے ہیں۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک یہ نماز جائز ہے، سنت نہیں ہے۔ امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ حدیث ہے:

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سورج کے غروب ہونے کے بعد نماز مغرب سے پہلے دو رکعت نماز پڑھا کرتے تھے۔ راوی نے حضرت انس سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ دو رکعت نماز پڑھتے تھے ؟ حضرت انس نے کہا: آپ ہمیں یہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے تھے پس آپ ہمیں اس نماز کا حکم دیتے تھے اور نہ اس نماز سے منع کرتے تھے۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث: ۸۳۶ )

صحابہ کرام جو مغرب سے پہلے دو رکعت نماز پڑھتے تھے ان کی دلیل یہ حدیث ہے:

حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دو اذانوں ( ہر اذان اور اقامت ) کے درمیان نماز ہے یہ آپ نے تین بار فرمایا اور تیسری بار فرمایا جو چاہے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث ۶۲۴ ، صحیح مسلم رقم الحدیث : ۸۳۸ ، سنن ابوداؤ درقم الحدیث: ۱۲۸۳ ، سنن ترمذی رقم الحدیث: ۱۸۵، سنن نسائی رقم الحدیث: ۶۷۲ - ۶۷۱ ، سنن ابن ماجه رقم الح رقم الحدیث: ۱۱۶۲)

ہر چند کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنا جائز ہے لیکن ان کے نزدیک راجح یہ ہے کہ مغرب کی اذان کے فوراً بعد نماز پڑھ لی جائے اور ان کی دلیل یہ حدیث ہے:

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی یا فطرت پر رہے گی جب تک وہ مغرب کی نماز جلدی پڑھتی رہے گی جب تک وہ مغرب کی نماز کو اتنا مؤخر نہ کرے کہ ستاروں کا جال بن جائے ۔

(سنن ابو داؤ درقم الحدیث: ۴۱۸ ، المستدرک ج ا ص ۱۹۰ مسند احمد ج ا ص ۱۹۱ - ۱۹۰ )

علامہ علاء الدین کا سانی متوفی ۵۸۷ھ اور علامہ ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغینانی متوفی ۵۹۳ھ نے یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ بیان کی ہے:

" لا يزال امتی بخیر ما عجلوا المغرب واخروا العشاء“

علامہ عبداللہ بن یوسف زیلعی حنفی متوفی ۷۶۴ھ نے لکھا ہے:

ان الفاظ کے ساتھ یہ حدیث ثابت نہیں ہے غریب ہے۔

(نصب الرایہ ج ا ص ۳۱۷‘ دار الکتب

العلمیة بیروت ۱۴۱۲ھ ) ا

اصل میں اس حدیث کے وہی الفاظ ہیں جو نہ جو ہم نے ”سنن ابو داؤد اور مستدرک“ کے حوالوں سے نقل کیے ہیں، ہدایہ کے بعض مقامات پر ایسی اور بھی مثالیں ہیں، علامہ بدرالدین عینی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کی اصل ہے لیکن اس کے یہ الفاظ نہیں ہیں ۔

( بنا یہ ج ۲ ص ۴۹ دار الفکر بیروت ۱۴۱۱ھ )

علامہ ابن ہمام نے فتح القدیر میں اس حدیث کی وہی عبارت ذکر کی ہے جو سنن ابو داؤد میں ہے حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی لکھا ہے کہ ان الفاظ کے ساتھ مجھے یہ حدیث نہیں ملی ۔

( الدراية ج ا ص ۱۰۶)

تبیان القرآن،ج11،ص339،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ

اس سوال کے دیگر الفاظ

  • سنتِ قبل المغرب کا فقہی موقف
    educational
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں