اگر چاند دو ٹکڑے ہوا ہوتا تو ساری دنیا کے لوگ مشاہدہ کرتے،صرف عرب کے لوگوں کو چاند کے ٹکڑے نظر آئے سب کو کیوں نہیں؟
بعض لوگوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اگر شق القمر ہوا ہوتا تو اس کو تمام دنیا کے لوگ دیکھتے اور اس کو نقل کرتے اور اس کا مشاہدہ صرف اہل مکہ کے ساتھ مختص نہ ہوتا اس کا جواب یہ ہے کہ شق القمر رات کے وقت ہوا اور اس وقت اکثر لوگ سوئے ہوئے تھے اور اس زمانہ میں شاذ و نادر ہی لوگ آسمان کی طرف گھات لگا کر دیکھتے تھے اور کئی مرتبہ رات کو چاند گہن لگتا ہے اور بڑے بڑے ستارے ظاہر ہوتے ہیں لیکن بہت کم لوگ ہی ان کو دیکھتے ہیں، اسی طرح چاند کا شق ہونا بھی رات کو وقوع پذیر ہوا نیز ایک لحظہ کے بعد چاند کے دونوں ٹکڑے پھر جڑ گئے تھے اس لیے اکثر لوگ اس کو نہیں دیکھ سکے اور چونکہ ایک لحظہ کے لیے چاند دو ٹکڑے ہوا تھا اس لیے کئی دیکھنے والوں نے اسے شدت حیرت کی وجہ سے نظر کے دھو کے پر محمول کیا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ رات بعض علاقہ والوں کے لیے چودھویں ہو اور بعض دوسرے علاقہ والوں کے لیے وہ چودھویں رات نہ ہو۔
بعض لوگوں نے شق القمر کا اس لیے انکار کیا کہ اگر یہ واقعہ ہوا ہوتا تو یہ عام لوگوں سے مخفی نہ رہتا کیونکہ یہ ایسی چیز ہے جس کا تعلق حس اور مشاہدہ سے ہے اور تمام لوگ اس کو دیکھ سکتے ہیں اور جو چیز عجیب و غریب ہو اس کو لوگ ضرور دیکھتے ہیں اور اگر یہ واقعہ ہوا ہوتا تو یہ ستاروں . کے علم کی کتابوں میں ضرور درج ہوتا کیونکہ ان سب لوگوں کا اس کو ترک کرنے پر اتفاق کرنا ممکن نہیں ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ چاند کو شق کرنے کا واقعہ رات میں رونما ہوا کیونکہ دن میں چاند کا ظہور نہیں ہوتا اور رات کو اکثر لوگ اپنے گھروں میں سوئے ہوئے ہوتے ہیں اور بعض صحرا میں سفر کرنے والے بیدار ہوتے ہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ اس وقت کسی اور کام میں مشغول ہوں اور یہ واقعہ تو چشم زدن میں ہو گیا تھا اور یہ بہت بعید ہے کہ ستارہ شناس ہر وقت رصد گاہوں میں ہو گیا ، میں بیٹھ کر چاند کو تکتے رہیں اور کبھی غافل نہ ہوں اور یہ ہو سکتا ہے کہ جب یہ واقعہ ہوا ہو تو اکثر لوگوں کو پتا نہ چلا ہوا اور اس واقعہ کو ان ہی لوگوں نے دیکھا جنہوں نے اس کے دیکھنے کا مطالبہ کیا تھا اور یہ واقعہ تو صرف ایک لحظہ میں رونما ہو گیا تھا اور اللہ تعالی کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ قرآن مجید کے سوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی معجزه حد تواتر کو نہ پہنچے کیونکہ ہر نبی کا وہ معجزہ جو علمہ الوقوع ہو اور اس کا ادراک حس اور مشاہدہ سے ہو سکتا ہو اور پھر قوم اس کی تکذیب کرے تو اس قوم کو ہلاک کر دیا جاتا ہے او رہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے اس لیے جس معجزہ کے ساتھ آپ نے دوسروں کو اس کی نظیر لانے کا چیلنج کیا وہ معجزہ عقلی تھا، اس لیے اس معجزہ کے ساتھ ان ہی لوگوں سے معارضہ کیا گیا جن کو زیادہ عقل اور فہم دی گئی تھی ۔
اور یہ جو کہا گیا ہے کہ کسی ستارہ شناس نے اس کا اعتراف نہیں کیا کہ اس نے چاند کے دوٹکڑے دیکھے ہیں تو اس کا جواب ہیں تو یہ ہے کہ کسی ستارہ شناس نے یہ بھی نہیں کہا: اس نے چاند کے دو ٹکڑے نہیں دیکھے۔
اس واقعہ کو بہ کثرت صحابہ اور ان کے بعد تابعین نے روایت کیا ہے اور قرآن مجید میں اس کا صراحت کے ساتھ ذکر ہے اس کے علاوہ اہل مکہ نے مکہ کے اطراف میں لوگوں کو بھیجا تھا اور انہوں نے آکر یہ خبر دی کہ انہوں نے چاند کو شق ہوتے کے علاوہ اللہ نے مکہ کے اطراف میں لوگوں کو بھیجاتھا اور ہوں۔ ہوئے دیکھا ہے کیونکہ مسافر رات کو چاند کی روشنی میں سفر کرتے تھے اور انہوں نے یہ واقعہ دیکھا تھا۔
علامہ قرطبی نے کہا ہے کہ جب آدمی کسی چیز کو قصدا دیکھنا نہ چاہے تو اس کو دیکھنے سے مانع بہت سی چیزیں ہو سکتی ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کے علاوہ تمام روئے زمین کے لوگوں کی نگاہوں کو اس واقعہ سے پھیر لیا ہوتا کہ یہ مشاہدہ اہل مکہ کے ساتھ خاص ہو جائے جیسا کہ اور بہت سے معجزات کے مشاہدہ کے ساتھ اہل مکہ خاص تھے اور دوسروں کو صرف ان کے بیان کرنے سے ان معجزات کا علم ہوا۔
علامہ خطابی نے کہا ہے کہ شق القمر کا معجزہ بہت عظیم معجزہ تھا اور دیگر انبیاء علیہم السلام کے معجزات میں اس قسم کا کوئی معجزہ نہیں ہے کیونکہ یہ معجزہ اس عالم طبیعی سے خارج میں واقع ہوا اور کسی شخص کی دسترس میں یہ نہیں ہے کہ وہ اس معجزہ کی نظیر لا سکے لہذا اس معجزہ کے ساتھ نبوت کو ثابت کرنا بہت واضح ہے۔ (فتح الباری ج ۷ ص ۵۸۱ - ۵۸۰ دار الفکر بیروت ۱۴۲۰ھ )
اس سوال کے دیگر الفاظ
- کیا معجزات نبوی ﷺ کا انکار یا اعتراض جائز ہے ؟seo