کیا حضور نبی کریم ﷺ نے عبد اللہ بن ابی کی نماز جنا زہ پڑھائی تھی؟
عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھانا
: امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ۲۵۶ ھ روایت کرتے ہیں
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب عبد اللہ بن ابی ابن سلول فوت ہو گیا تو اس کی نماز جنازہ پڑھانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا گیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو میں دوڑ کر آپ کے پاس گیا میں نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا آپ ابن ابی کی نماز جنازہ پڑھا رہے ہیں؟ حالانکہ اس نے فلاں دن یہ اور یہ کہا تھا کہ مدینہ پہنچ کر عزت والے ذلت والوں کو نکال دیں گے اور یہ کہا تھا کہ جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں جب تک وہ آپ کا ساتھ چھوڑ نہ دیں اس وقت تک ان پر خرچ نہ کرو اور حضرت عائشہ رضی پر اللہ عنہا پر بدکاری کی تہمت لگائی تھی، جس سے آپ کو سخت رنج پہنچا تھا اور آپ سے کہا تھا کہ اپنی سواری دور کرو مجھے اس سے بد بو آتی ہے جنگ احد میں عین لڑائی کے وقت اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر لشکر سے نکل گیا) میں آپ کو یہ تمام باتیں گنواتا رہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرما کر کہا:
اپنی رائے کو رہنے دو۔ جب میں نے بہت اصرار کیا تو آپ نے فرمایا: مجھے اختیار دیا گیا ہے ( کہ استغفار کرو یا نہ کرو) سو میں نے (استغفار کرنے کو ) اختیار کر لیا اور اگر مجھے یہ علم ہوتا کہ اگر میں نے ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کیا تو اس کی مغفرت کر دی جائے گی تو میں ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کرتا حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ الحدیث
( صحیح بخاری ج ۲ ص ۶۷۴ ۔ رقم الحدیث: ۱۳۶۶، مطبوعہ نور محمد اصبح المطابع کراچی ۱۳۸۱ھ)
: امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ۳۱۰ ھ روایت کرتے ہیں
قتادہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معاملہ میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: میری قمیص اور اس پر راس پر میری نماز جنازہ اس سے اللہ کے عذاب کو دور نہیں کر سکتی اور بے شک مجھے یہ امید ہے کہ میرے اس عمل سے اس کی قوم کے ایک ہزار آدمی اسلام لے آئیں گے۔ ( جامع البیان ج ۱۰ ص ۱۴۲ مطبوعہ دار المعرفة بیروت ۱۴۰۹ھ )
آپ کی اس نرمی اور حسن اخلاق کو دیکھ کر عبد اللہ بن ابی کی قوم کے ایک ہزار آدمی اسلام لے آئے ۔
اس سوال کے دیگر الفاظ
- کیا حضور ﷺ کے نماز جنازہ پڑھانے سے عبداللہ بن ابی کو عذاب نہیں ہوگا ؟seo