فقہ — نماز

کیا حضور نبی کریم ﷺپر تہجد کی نماز فرض تھی؟

QB-00089·منظوری: asma asghar
مختصر جواب
پنجگانہ نماز کی فرضیت سے پہلے تھی ،ان کی فرضیت کے بعد تہجد کی فرضیت کا حکم منسوخ ہو گیا۔
حوالہ 1
(Word doc — قٓ)
قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًا نِّصْفَهٗ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًا (المزمل،2۔3)
ترجمہ
رات کے تھوڑے سے حصے کے سوا قیام کرو۔آدھی رات (قیام کرو) یا اس سے کچھ کم کرلو۔
ترجمہ کنزالعرفان
تفسیر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں پر تہجد کی فرضیت منسوخ ہونے کے دلائل،

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت پر رات کے قیام اور تہجد کی فرضیت منسوخ ہو چکی ہے اب یہ امر باقی رہتا ہے کہ تہجد کی فرضیت کی ناسخ کون سی دلیل ہے اس سلسلہ میں امام فخر الدین محمد بن عمر رازی لکھتے ہیں:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : آدھی رات تک قیام کریں یا اس سے کچھ کم کر دیں یا اس پر کچھ اضافہ کر دیں پس اس آیت میں رات کے قیام کو نمازی کی رائے کی طرف مفوض کر دیا ہے اور جو چیز واجب ہو وہ اس طرح نہیں ہوتی۔

دوسری دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَدْ بِهِ نَافِلَةٌ لَكَ .

( بنی اسرائیل: ۷۹)

اور رات کو آپ تہجد پڑھیے یہ آپ کے لیے نفل ہے۔

اس دلیل پر یہ اعتراض ہے کہ نافلة لك “ کا معنی ہے: یہ آپ پر زائد فرض ہے یعنی پانچ نمازوں پر زائد فرض ہے ـ

اس کا جواب یہ ہے کہ اس تاویل سے اس لفظ کو مجاز پر محمول کیا گیا ہے اور جب تک حقیقت محال یا متعذر نہ ہو کسی لفظ کو مجاز پر محمول نہیں کیا جاتا۔

تیسری دلیل یہ ہے کہ جس طرح رمضان کے روزوں سے عاشورہ کا وجوب منسوخ ہو گیا اور قربانی کے وجوب سے عتیرہ کا وجوب منسوخ ہو گیا اسی طرح پانچ نمازوں کی فرضیت سے تہجد کی نماز کی فرضیت منسوخ ہوگئی۔

( تفسیر کبیر ج ۱۰ص ۶۸۲، دار احیاء التراث العربی بیروت، ۱۴۱۵ھ )

تبیان القرآن،ج12،ص338،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ

اس سوال کے دیگر الفاظ

  • کیا تہجد حضور ﷺ پر فرض تھی؟
    seo
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں