کیا حضور نبی کریمﷺ بچپن سے ہی نبی تھےیا چالیس سال کی عمر میں نبی بنے؟
شرح صدر کے متعلق احادیث اور سید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بچپن میں نبوت عطا کیا جانا:
حسب ذیل احادیث ہیں:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شرح صدر کے متعلق:
عقبہ بن عبد السلمی نے بیان کیا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ ! آپ کی نبوت کی پہلی نشانی کیا تھی؟ آپ نے فرمایا: میں بنو سعد بن بکر کے ہاں اپنی دایہ کے پاس تھا، میں اور ان کا بیٹا بکریاں چرانے گئے ہم نے اپنے ساتھ ناشتہ نہیں لیا تھا میں نے کہا: اے بھائی! جاؤ ہماری ماں کے پاس سے ناشتہ لے آؤ میرا بھائی چلا گیا اور میں بکریوں کے پاس رہا، پھر گدھ کی طرح دو سفید پرندے آئے ایک نے دوسرے سے کہا: کیا یہ وہی ہے؟ اس نے کہا: ہاں، پھر وہ دونوں میری طرف چھٹے ان دونوں نے مجھے پکڑ کر زمین پر پیٹھ کے بل گرا دیا، پھر انہوں نے میرا سینہ چاک کیا اور میرا دل نکالا اور اس سے دو سیاہ لوتھڑے نکالے پھر ایک نے دوسرے سے کہا: برف کا پانی لاؤ، پھر انہوں نے اس پانی سے میرے پیٹ کو دھو یا پھر کہا: ٹھنڈا پانی لاؤ، پھر کہا: چھری لاؤ، پھر ٹھنڈا پانی میرے دل پر چھڑکا، پھر کہا: اس دل کو سیو اور اس پر نبوت کی مہر لگا دو پھر ایک نے دوسرے سے کہا: ان کو ایک پلڑے میں رکھو اور ان کی امت کو دوسرے پلڑے میں رکھو پھر میں اپنے اوپر ہزاروں آدمیوں کو دیکھ رہا تھا اور مجھے ڈر تھا کہ ان میں سے بعض مجھ پر گر پڑیں گے پھر ان میں سے کسی نے کہا: اگر ان کا امت کے ساتھ وزن کیا گیا تو ان کا پلڑا بھاری ہوگا، پھر میں اپنی رضاعی ماں کے پاس گیا اور ان کو اس واقعہ کی خبر دی ان کو یہ خطرہ ہوا کہ کہیں مجھ پر کوئی افتاد آ جائے گی انہوں نے کہا: میں تمہیں اللہ کی پناہ میں دیتی ہوں، وہ اپنے اونٹ پر سوار ہوئیں اور مجھے اپنے پیچھے پالان پر بٹھایا، حتیٰ کہ ہم میری والدہ ( رضی اللہ عنہا ) تک پہنچ گئے میری رضاعی ماں نے کہا: کیا میں نے اپنی امانت ادا کر دی اور اپنے ذمہ کو پورا کر دیا ؟ اور وہ واقعہ بیان کیا جو مجھے پیش آیا تھا میری والدہ اس سے خوف زدہ نہیں ہوئیں اور فرمایا: میں نے دیکھا تھا کہ مجھ سے ایک نو نور ر نکلا تھا - جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے تھے۔
(مسند ). احمد ج ص ۱۸۴ ۱۸۵ ۴ طبع قدیم مسند احمد ۱۹۵-۱۹۶۲۹ - رقم الحدیث ۷۲۴۸ المعجم الکبیر رج ۱۷۔ رقم الحدیث: ۱۳۴۳، سنن دارمی رقم الحدیث: ۱۳ الاحاد والمثاني رقم الحدیث: ۱۳۶۹ مسند الشامیین رقم الحدیث: المستدرک ۱۱۸۱ ج ص ۶۱۷ ۲ - ۶۱۶‘ تاریخ دمشق ج اص ۱۳۷۶ الوفاء لا لابن الجوزى ص ۱۰۸ دلائل النبوة اللبیبی ج ص ۲ نے مجمع الزوائد رقم الحدیث: ۱۳۸۴۶ حافظ الہیثمی نے کہا: امام احمد کی سند حسن ہے البدایہ والنبای ۲ ص ۲۳۳ دار الفکر بیروت ۱۴۱۸ھ)
اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن میں شق صدر کیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شق صدر کے اس واقعہ کو اپنی نبوت کی نشانی قرار دیا اور اس واقعہ سے اپنی نبوت کو پہچانا اور اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ آپ کو بچپن میں نبوت عطا کر دی گئی تھی اور اس میں نبوت کا ثبوت ہے اور نبوت کے احکام اس وقت جاری ہوئے جب آپ کی عمر کے چالیس سال پورے ہو گئے اور آپ کو اعلانِ نبوت کا حکم دیا گیا اس کی زیادہ وضاحت اس حدیث میں ہے:
امام ابو نعیم الاصبہانی متوفی ۴۳۰ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں:
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور وہ سوال پر بہت حریص تھے وہ آپ سے ان چیزوں کے متعلق سوال کرتے تھے، جن کے متعلق دوسرے سوال نہیں کرتے تھے انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ کی نبوت کی ابتداء کیسے ہوئی؟ آپ نے فرمایا: جب تم نے یہ سوال کیا ہے تو سنو!میں دس سال کی عمر میں صحرا میں جا رہا تھا میں نے اپنے اوپر دو آدمیوں کی بات سنی ان میں سے ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا: کیا یہ وہی ہے؟ دوسرے نے کہا: ہاں! ان دونوں نے مجھے پکڑ کر گرا دیا، پھر میرا پیٹ شق کیا، حضرت جبریل سونے کے طشت میں پانی لا رہے تھے اور حضرت میکائیل میرے پیٹ کو دھو رہے تھے پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ان کا سینہ چیرو اور جب میرا سینہ چیرا گیا تو مجھے کوئی درد نہیں ہوا ( ایک روایت میں ہے: بلا دم ولا وجع “‘ نہ میرا خون نکلا اور نہ مجھے درد ہوا۔ مجمع الزوائد رقم الحدیث: ۱۳۸۴۳) پھر کہا: ان کا دل چیرؤ پھر میرا دل چیرا گیا، پھر کہا: اس میں سے کینہ اور حسد نکال دو پھر جھے ہوئے خون کے مشابہ کوئی چیز نکال کر پھینک دی گئی، پھر کہا: ان کے دل میں شفقت اور رحمت داخل کر دو پھر چاندی کی مثل کوئی چیز داخل کی ان کے پاس کوئی سفوف تھا، اس کو چھڑ کا پھر میرے انگوٹھے کو نرمی سے دبا کر کہا: اب آپ جائیں، پھر میرے دل میں چھوٹوں کے لیے بہت رحمت اور بڑوں کے لیے دل میں بہت نرمی تھی ۔
(دلائل النبوۃ رقم الحدیث: ۱۲۶ مجمع الزوائد رقم الحدیث: ۱۳۵۴۳ حافظ البیٹی نے کہا ہے: اس حدیث کو عبد اللہ بن احمد نے زوائد المسند میں روایت کیا ہے اس کے راوی ثقہ میں امام ابن حبان نے ان کی توثیق کی ہے مجمع الزوائد ج ۸ ص ۲۲۳) الوفا باحوال المصطفى لابن الجوزي رقم الحدیث: ۱۲۹ ص ۱۱۲ - ۱۱أدار الكتب العربیة بیروت ۱۴۰۸ه الدر المنشور ج ۸ ص ۵۰۳ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۲۱ ه روح المعانی جز ۳۰ ص ۳۰۰ - ۲۹۹ دار الفکر بیروت ۱۴۱۷ھ) )
تنبیہ: امام ابونعیم اورامام ابن الجوزی نے شق صدر کے وقت آپ کی عمر دس سال لکھی ہے اور حافظ الہیثمی اور حافظ سیوطی نے اس صدر وقت کی عمر دس وقت آپ کی عمر میں سال لکھی ہے اور علامہ آلوی نے دونوں روایتیں لکھی ہیں اور اس سے شق صدر کے تعدد پر استدلال کیا ہے۔
ان دونوں صحیح حدیثوں میں اس امر کی تصریح کی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس عالم عناصر میں بچپن میں نبوت دی گئی اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ آپ کو اپنے نبی ہونے کا کیسے یقین : پ نے شق واقعہ سے اپنی نبوت پر استدلال فرمایا، سو آپ کو بچپن میں نبوت عطا کر دی گئی تھی، البتہ چالیس سال کی عمر میں آ عمر میں آپ کو اعلان نبوت کا حکم دیا گیا۔
امام ابو نعیم کی روایت کردہ حدیث میں یہ تصریح ہے کہ جب بچپن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا شق صدر کیا گیا تو آپ نے حضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھا اور جو شخص نبی نہ ہو اور وہ حضرت جبریل کو دیکھئے وہ آخر عمر میں نابینا ہو جاتا ہے حدیث میں ہے:
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے حضرت عبد اللہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا وہ آپ کے پیچھے سو گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرد تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مڑ کر دیکھا اور فرمایا: اے میرے پیارے ! تم کب آئے ؟ انہوں نے کہا: ایک ساعت ہوئی آپ نے پوچھا: کیا تم نے میرے پاس کسی شخص کو دیکھا؟ انہوں نے کہا: ہاں ! میں نے ایک مرد کو دیکھا آپ نے فرمایا: وہ جبریل علیہ الصلوٰۃ والسلام تھے ۔
ولم يره خلق الاعمى الا ان يكون نبيا ولكن ان يجعل ذلك في اخر عمرك
اور جبریل کو مخلوق میں سے جو بھی دیکھے گا وہ نابینا ہو جائے گا سوا اس کے کہ وہ نبی ہو لیکن تم کو آخر عمر میں نابینا کیا جائے گا۔
پھر آپ نے حضرت ابن عباس کے لیے دعا کی: اے اللہ ! اس کو تاویل کا علم عطا کر اور اس کو دین کی سمجھ عطا فرما اور اس کو اہل ایمان سے رکھ ۔
(المستدرک ج ۳ ص ۳۵۶ طبع قدیم المستدرک ج ۲ - رقم الحدیث: ۶۲۸۷ المكتبة العصرية ۱۴۲۰ھ )
حاکم نے کہا: یہ حدیث صحیح ا الا سناد ہے اور شیخین نے اس کو روایت نہیں کیا۔
علامہ ابن حجر مکی متوفی ۹۷۴ھ نے اس حدیث سے اس پر استدلال کیا ہے کہ جو شخص نبی نہ ہو اور وہ اس وقت حضرت جبریل کو دیکھنے میں منفر د ہو وہ آخر عمر میں نابینا ہو جاتا ہے۔
(الفتاوی الحدیثیہ ص ۹۱ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۱۹ھ )
اگر سید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم بچپن میں نبی نہ ہوتے تو حضرت جبریل کو دیکھنے کی وجہ سے اپنے ارشاد کے مطابق آخر عمر میں نابینا ہو جاتے اور جب کہ ایسا نہیں ہوا تو معلوم ہوا جس وقت بچپن میں آپ نے حضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھا تھا تو اس وقت آپ نبی تھے نیز آپ کا سینہ چیرا گیا تو نہ آپ کو درد ہوا نہ آپ کا خون نکلا اور آپ کے دل کو چیرا گیا اور آپ یہ تمام امور ملاحظہ فرما رہے تھے جب کہ عام بشر اور انسان کے لیے یہ امور متصور نہیں ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ سید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا شق صدر سے اپنی نبوت پر استدلال فرمانا اور بچپن میں حضرت جبریل کو دیکھنے کے باوجود آپ کا نابینا نہ ہونا اس امر پر واضح دلیل ہیں کہ اس وقت آپ نبی تھے۔
اس سوال کے دیگر الفاظ
- حضور ﷺ بچپن سے نبی تھے یا چالیس سال میں بنے؟seo