کیا ''والعصر '' سے نبی پاک ﷺ کا زمانہ مراد ہے؟
والعصر “ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ مراد ہونا
اس آیت سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی قسم کھائی ہے اور اس پر دلیل یہ حدیث ہے: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں اور یہود اور نصاری کی ابوموسیٰ مثال اس طرح ہے جیسے ایک شخص نے کچھ لوگوں کو اجرت پر کام کے لیے رکھا اور ان سے کہا: رات تک کام کرنا ؟ انہوں نے آدھے دن تک کام کیا، پھر کہا: ہمیں تمہاری اجرت کی ضرورت نہیں اور کام چھوڑ کر چلے گئے پھر اس نے دوسرے آدمیوں کو لگایا اور ان سے کہا: تم بقیہ دن تک کام کرنا اور تم کو وہ اجر ملے گا انہوں نے عصر کی نماز کے وقت تک کام کیا اور کہا: بس ہم اتنا ہی کام کر سکتے ہیں، پھر اس نے اور لوگوں کو بلایا اور انہوں نے بقیہ دن غروب آفتاب تک کام کیا حتی کہ سورج غروب ہو گیا اور انہوں نے دونوں فریقوں کا اجر حاصل کر لیا۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث: ۵۵۸ مسند احمد ج ۲ ص ۶ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث: ۲۰۵۶۵)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عصر وہ زمانہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کے ساتھ مختص ہے لہذا والعصر “ کا معنی ہے: اس زمانہ کی قسم جس میں آپ ہیں یہ آپ کے زمانہ کی قسم ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے شہر کی قسم میں یہ کے زمانہ کی ہے اوراللہ تعالی نے کے تم کھائی: " انت حل بهذا البلدة البلد (۲) اس شہر کی قسم جس میں آپ مقیم ہیں اور آپ کی زندگی کی قسم کھائی: " لعمرك (الحجر (۷۲) پس گویا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آپ کے زمانہ کی قسم ! آپ کے شہر کی قسم ! آپ کی زندگی کی قسم ! سوچیے اللہ تعالی آپ کی نسبتوں کی قسم کھا رہا ہے اور آپ کی نہ نسبتیں اللہ کے نزدیک اتنی مکرم ہیں تو خود آپ کی ذات اللہ تعالیٰ کے نزدیک کس قدر مکرم ہوگی ! ( تفسیر کبیر ج۱ ص ۲۷۹ داراحیاء التراث العربی بیروت، )
اس سوال کے دیگر الفاظ
- والعصر سے کون سا زمانہ مراد ہے ؟seo