متفرق
کیا قرآن مجید اُردو خط میں لکھنا گناہ ہے؟
مختصر جواب
مکمل قرآن مجید اردو خط میں لکھنا منع ہے البتہ بطور نمونہ مختصر تحریر لکھنے میں حرج نہیں۔
حوالہ 1
آل عمران، آیت 78
وَ اِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مَا هُوَ مِنَ الْكِتٰبِۚ
ترجمہ
اور یقینا ان اہلِ کتاب میں سے کچھ وہ ہیں جو زبان کو مروڑ کر کتاب پڑھتے ہیں تاکہ تم سمجھو کہ یہ بھی کتاب کا حصہ ہے حالانکہ وہ کتاب کا حصہ نہیں ہے
— ترجمہ کنزالعرفان
تفسیر
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 78 کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ کتاب اللہ میں انسانی کلام اس طرح ملانا جس سے فرق نہ رہے، سخت جرم ہے۔ لکھنے، پڑھنے بولنے غرض کہ ہر طرح کلامِ الٰہی اور کلام ِانسان میں فرق کرنا ضروری ہے۔ مسئلہ : قرآن پاک خط نستعلیق یعنی اُردو خط میں لکھنا منع ہے، بلکہ عربی خط میں لکھے اور اس میں بھی مصحف عثمانی کی پیروی کرے تا کہ انسانی اور ربانی کلام میں فرق رہے (فتاوٰی شامی) تفسیر نعیمی ،ج3،ص569
— تفسیر نعیمی ،ج3،ص569
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں