فقہ

کیا خطائے اجتہادی معاف ہے اگر چہ کتنی ہی سخت ہو؟

مختصر جواب
خطاء اجتہادی معاف ہے اگر چہ کتنی ہی سخت ہو اور اس کا نتیجہ کتنا ہی خطرناک ہو۔ ائمہ و فقہاء نے اجتہاد کی شرائط مقرر کی ہیں اور مجتہد کےلیے مخصوص صلاحیتوں کا حامل ہونا ضروری قرار دیا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجتہاد کرنے والے کے متعلق فرمایا: جب کوئی فیصلہ کرنے والا فیصلہ دینے میں صحیح اجتہاد کرے تو اس کے لئے دو اجر ہیں ، اور اگر اس نے اجتہاد میں غلطی کی تو اس کے لئے ایک اجر ہے ۔
حوالہ 1
آل عمران، آیت 122
اِذْ هَمَّتْ طَّآىٕفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَاۙ-وَ اللّٰهُ وَلِیُّهُمَاؕ-وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ
ترجمہ
جب تم میں سے دو گروہوں نے ارادہ کیا کہ بزدلی دکھائیں اور اللہ ان کو سنبھالنے والاتھااور اللہ ہی پر مسلمانوں کو بھروسہ کرناچاہئے۔
تفسیر

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر میں لکھتے ہیں کہ: خطاء اجتہادی معاف ہے اگر چہ کتنی ہی سخت ہو اور اس کا نتیجہ کتنا ہی خطرناک ہو، دیکھو اُحد میں درہ والے مسلمانوں کی غلطی سے کتنا نقصان ہوا کہ خود حضور ﷺبھی زخمی ہو گئے مگر رب تعالیٰ نے اُن غلطی کرنے والوں کو بھی مومنین ہی فرمایا اور اُن پر کسی قسم کا عتاب نہ کیا، کیونکہ انہوں نے حضور ﷺکے فرمان عالی کا مطلب سمجھنے میں غلطی کی ، وہ سمجھے کہ فتح تو ہو ہی چکی ٹھہرنے کی علت جاتی رہی ، ہمارے لئے اب یہاں سے ہٹ جانا جائز ہو گیا۔ یہی مجتہدین کہا کرتے ہیں، اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو ائمہ مجتہدین پر کیچڑ اُچھالتے ہیں، یا صحابہ کرام پر ان کی جنگوں کے باعث تبصرہ کرتے ہیں۔ غزوہ احد میں مسلمانوں کو شکست ہرگز نہ ہوئی، کچھ سپاہیوں کے بھاگ جانے سے شکست نہیں ہوا کرتی ، شکست ہوتی ہے سپہ سالار کے بھاگنے سے ، حضور ﷺاپنے مقام سے ایک انچ بھی نہ ہٹے، پھر شکست کیسی؟ علماء فرماتے ہیں جو کہے کہ احد میں مسلمان ہار گئے، وہ تو بہ کرے، اگر نہ کرے، تو حاکم اسلام اس کو سزا دے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے (مدارج ) ہوا یہ کہ کفار موقع پا کر چوروں کی طرح پیچھے سے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے، کچھ کو شہید زخمی کر کے بھاگ گئے ، جب حضور ﷺکے گرد مسلمان پھر جمع ہو گئے تو کفار میں وہاں ٹھہرنے کی بھی ہمت نہ رہی ، اگر انہوں نے فتح پائی ہوتی تو کچھ علاقہ پر قبضہ کرتے، وہاں رہ کر جشن اور رنگ رلیاں مناتے ، جیسا کہ اس زمانہ میں فاتحین کیا کرتے تھے، لہٰذا حق یہ ہے کہ مسلمانوں نے ہرگز شکست نہ کھائی ، ہاں اپنی غلطی سے کچھ تکلیف اٹھائی ۔(تفسیر نعیمی ،ج4،ص165) حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجتہاد کرنے والے کے متعلق فرمایا : إِذَا حَکَمَ الْحَاکِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ اَصَابَ، فَلَه أَجْرَانِ، وَإِذَا حَکَمَ فَاجْتَهَدُ ثُمَّ أَخْطَاءَ فَلَهُ أَجْرٌ ۔ ترجمہ : جب کوئی فیصلہ کرنے والا فیصلہ دینے میں صحیح اجتہاد کرے تو اس کے لئے دو اجر ہیں ، اور اگر اس نے اجتہاد میں غلطی کی تو اس کے لئے ایک اجر ہے ۔ (بخاری، الصحيح، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنه ، باب أجر الحاکم اذا اجتهد فأصاب او اخطأ)

— (تفسیر نعیمی ،ج4،ص165) (بخاری، الصحيح، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنه ، باب أجر الحاکم اذا اجتهد فأصاب او اخطأ)
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں