کیا یوں کہنا منع ہے کہ اگر میں فلاں کام کر لیتا تو یہ مصیبت نہ آتی؟
یوں کہنا منع ہے کہ اگر میں فلاں کام کر لیتا تو فلاں مصیبت نہ آتی منافقین یہ بات اس لیے کہتے تھے کہ اُن کا تقدیر پر ایمان نہیں تھا، جو چیز جس شخص کے لیے مقدر کی جا چکی ہے وہ عمل سے مل نہیں سکتی، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر کوئی نقصان ہو جائے تو یوں نہ کہو کہ اگر یہ شخص فلاں کام کر لیتا تو یہ نقصان نہ ہوتا۔ امام مسلم روایت کرتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : قوی مومن اللہ تعالیٰ کے نزدیک ضعیف مومن سے زیادہ بہتر اور زیادہ محبوب ہے اور ہر ایک میں خیر ہے، جو چیز تمہیں نفع دے اس پر حرص کرو اور اللہ سے مدد حاصل کرو اور عاجز نہ ہو ،اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں فلاں کام کر لیتا تو مجھے یہ مصیبت نہ پہنچتی البتہ یہ کہو کہ یہ چیز اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دی ہے اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور ''اگر '' کا لفظ شیطان کے عمل کو کھول دیتا ہے۔ (کتاب القدر باب نمبر8 باب فی الامر بالقوة و ترك العجز) اس حدیث کا منشا یہ ہے کہ جب کوئی امر واقع ہو جائے تو پھر یہ نہ کہا جائے کہ اگر میں فلاں کام کر لیتا تو یہ مصیبت نہ آتی، اگر وہ یہ بات جزم اور یقین کے ساتھ کہتا ہے یعنی اگر میں یہ کام کر لیتا تو یقیناً یہ مصیبت نہ آتی تو ایسا کرنا حرام ہے کیونکہ اس سے تقدیر کا انکار ظاہر ہوتا ہے اور اگر وہ اظہار افسوس کے لیے ایسا کہتا ہے تو پھر یہ مکروہ تنزیہی ہے جیسے کوئی طالب علم کے اگر میں امتحان کی اچھی طرح تیاری کرتا تو فیل نہ ہوتا، لیکن یہ کہنا بہر حال نا جائز ہے کہ اگر میں اس مریض کا فلاں ڈاکٹر سے علاج کر الیتا یا فلاں دوائی پلا دیتا تو یہ مریض نہ مرتا کیونکہ موت و حیات کا تعلق قضاء مبرم سے ہے اور امتحان میں فیل یا پاس ہونے کا تعلق قضاء معلق سے ہے۔(تبیان القرآن،ج2،ص410)