متفرق

قرآن مجید ایک ہی بار میں کیوں نہیں نازل ہوا؟

مختصر جواب
قرآن پاک کو ترتیل کے ساتھ تھوڑا تھوڑا کرکے نازل فرمایا گیا اور تھوڑا تھوڑا نازل ہونا ایک ہی بار نازل ہونے سے زیادہ افضل ہے اور اس کی حکمت کا ذکر قرآن میں اللہ پاک نے فرمایا ہے
حوالہ 1
النساء، آیت 163
اِنَّا اَوْحَیْنَا اِلَیْكَ كَمَا اَوْحَیْنَا اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّنَ مِن بَعْدِه وَ اَوْحَیْنَا اِلٰى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ-وَ اٰتَیْنَا دَاودَ زَبُوْرًا
ترجمہ
بیشک اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے ہم نے نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کی طرف بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی فرمائی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔
— ترجمہ کنزالعرفان
تفسیر

علامہ غلام رسول سعیدی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اِس آیت مبارکہ کی تفسیر یوں بیان فرماتے ہیں کہ: قرآن مجید کے قسط وار نازل ہونے کو یہود نے اپنی کم عقلی سے نقص گردانا حالانکہ اس میں ہمارے نبی پاک ﷺکی بڑی فضیلت ہے کیونکہ کتاب نازل کرنے کا جو رابطہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے زندگی میں صرف ایک بار قائم ہوا وہ رابطہ حضور نبی کریم ﷺکےساتھ تاحیات قائم رہا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام تورات لینے پہاڑ طور پر گئے تھے۔ حضور نبی کریم ﷺکو قرآن مجید کے لیے کہیں جانا نہیں پڑتا تھا بلکہ آپ ﷺجہاں تشریف فرما ہوتے تھے، قرآن مجید وہیں نازل ہو جاتا تھا، خواہ آپ بدر کے میدان میں ہوں، احد کی گھاٹیوں میں ہوں ، غار ثور میں ہوں ، کسی سواری پر ہوں، حضرت عائشہ کے بستر پر ہوں، جہاں آپ ہوتے تھے قرآن کریم وہیں نازل ہو جاتا تھا لوگ آپ سے سوالات کرتے تھے ان کے جواب میں آیتیں نازل ہوئیں، یہود اور نصاری کے اعتراضات کے جوابات میں اور مختلف پیش گوئیوں کے سلسلہ میں آیات نازل ہوتی تھیں، یہ سہولت یک بارگی نزول میں کہاں ہے پھر اگر یک بارگی کتاب نازل ہوتی تو تمام احکام یک بارگی فرض ہو جاتے اور لوگوں کے لیے ایک دم اُن پر عمل کرنا اور پرانی عادتوں اور رسموں کا چھوڑنا مشکل ہوتا بہ تدریج کتاب کے نزول سے لوگوں پر اسلام کا قبول کرنا آسان ہو گیا قرآن مجید کو یک بارگی نازل نہ کرنے میں یہ فضیلت، باریکیاں اور فوائد ہیں جو یہود کی سمجھ میں نہیں آئے اور ان کو سمجھایا گیا تو انہوں نے اپنی ہٹ دھرمی سے مانا نہیں۔ (تبیان القرآن،ج2،ص877)

— (تبیان القرآن،ج2،ص877)
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں