کیارسول اللہ ﷺکی طرف ''عطا'' کی نسبت کر سکتے ہیں؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دینے اور عطا کرنے کی نسبت درست ہے اور اس کو شرک کہنا درست نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس کی ترغیب دی ہے کہ یوں کہنا چاہیے کہ عنقریب اللہ اور اس کا رسول ہمیں اپنے فضل سے عطا فرمائیں گے اور اللہ اور رسول کے دینے میں فرق ہے، اللہ تعالیٰ بالذات عطا فرماتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت، اس کے اِذن اور اس کے حکم سے عطا فرماتے ہیں۔ قرآنِ مجید کی اور آیات میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف عطا کرنے کی نسبت کی گئی ہے: وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ (التوبۃ،74) ترجمہ کنز العرفان: اور انہیں یہی بُرا لگا کہ اللہ اور اس کے رسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کردیا۔ وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ (الاحزاب،37) ترجمہ کنز العرفان: اور جب آپ اس شخص سے کہتے تھے جس پر اللہ نے انعام کیا اور آپ نے (بھی) اس پر انعام کیا۔