کیا قرآن مجید میں بد مذہبوں کے ساتھ میل جول سے منع کیاگیا ہے؟

مختصر جواب
جی ہاں بد مذہبوں اور دین سے دوری کا خدشہ بھی جہاں ہوان سے میل جول کو منع کیا گیا
حوالہ 1
ھود، آیت 113
وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ
ترجمہ
اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آ گ چھوئے گی اور اللہ کے سوا تمہاراکوئی حمایتی نہیں پھر مدد نہ پاؤ گے۔
— ترجمہ کنز الایمان
تفسیر

کفار ، بدمذ ہبوں اور فاسقوں سے میل جول کی ممانعت کے متعلق احادیث: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے آخر میں کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو تمہارے سامنے ایسی حدیثیں بیان کریں گے جن کو تم نے سنا ہو گا نہ تمہارے باپ دادا نے، تم اُن سے دور رہنا، وہ تم سے دور رہیں گے ۔ (مقدمہ صحیح مسلم ،ج1، ص ۹، مطبوعہ کراچی) حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر اُمت کے مجوس ہیں اور اس امت کے مجوس وہ لوگ ہیں جو منکر تقدیر ہیں ، وہ اگر مر جائیں تو ان کے جنازہ پر نہ جاؤ اور اگر وہ بیمار ہوں تو ان کی عیادت نہ کرو۔(سنن ابو داؤد ،رقم الحدیث : 4691) حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اے عائشہ ! جن لوگوں نے دین میں تفریق کی وہ ایک گروہ تھا، وہ بدعتی اور اپنی خواہش کے پیروکار ہیں، ان کی کوئی تو بہ نہیں ہے، میں اُن سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں۔ (المعجم الصغیر ،رقم الحدیث: ۵۶۰، مجمع الزوائد ،ج1، ص188) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب بنو اسرائیل گناہوں میں مبتلا ہو گئے تو ان کے علماء نے اُن کو منع کیا، وہ باز نہ آئے، وہ علماء ان کی مجالس میں بیٹھتے رہے اور ان کے ساتھ مل کر کھاتے پیتے رہے، تب اللہ تعالیٰ نے ان میں سےبعض کے دل بعض سے مشابہ کر دیئے، اور ان پر (حضرت) داؤد اور ) (حضرت) عیسٰی بن مریم کی زبان سے لعنت کی ،کیونکہ وہ نا فرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔ (المائدہ: (78) اور دوسری روایت (ترمذی: 3048) کے آخر میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے ۔ پھر آپ اٹھ کر بیٹھ گئے ۔ پس فرمایا: نہیں، حتی کہ تم ظالم کے ہاتھ پکڑ لو اور اس کوحق پر سختی کے ساتھ مجبور کرو(یعنی اس کے علاوہ کسی صورت میں معصیت کاروں کے ساتھ نہ بیٹھو)۔ (سنن الترمذی،رقم الحدیث: 3047، سنن ابو داؤد ،رقم الحدیث: 4337، سنن ابن ماجہ، ر قم الحدیث: 4006) حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے منتخب فرمالیا اور میرے لیے اصحاب اور سسرال کو منتخب فرمالیا ، عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو میرے اصحاب اور سسرال والوں کو بُرا کہیں گے اور ان کے عیب نکالیں گے، تم ان کی مجلس میں مت بیٹھنا، ان کے ساتھ پینا نہ ان کے ساتھ کھانا اور نہ ان کے ساتھ نکاح کرنا۔ كتاب الضعفاء للعقيلی، ج1، ص 126، رقم الحدیث: 264، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ،بیرو ت ) ) یہ حدیث صحیح ہے،امام عقیلیؒ نے اس حدیث کی مزید تین سندیں بیان کی ہیں۔ ہم روزانہ وتر کی دعاء قنوت میں یہ کہتے ہیں: ونخلع ونترك من يفحرك جو تیری نافرمانی کرتا ہے ہم اس کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس سے قطع تعلق کر لیتے ہیں۔ ان احادیث سے معلوم ہواکہ بد عقیدہ لوگوں کے ساتھ میل جول جائز نہیں۔ (مصنف ابن ابی شيبہ، ج 2، ص 314، مطبوعہ کراچی) (تبیان القرآن،ج5،ص642،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ) کفار ، بدمذ ہبوں اور فاسقوں سے میل جول کی ممانعت کے متعلق احادیث: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے آخر میں کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو تمہارے سامنے ایسی حدیثیں بیان کریں گے جن کو تم نے سنا ہو گا نہ تمہارے باپ دادا نے، تم اُن سے دور رہنا، وہ تم سے دور رہیں گے ۔

— (مقدمہ صحیح مسلم ،ج1، ص ۹، مطبوعہ کراچی) (سنن ابو داؤد ،رقم الحدیث : 4691)(المعجم الصغیر ،رقم الحدیث: ۵۶۰، مجمع الزوائد ،ج1، ص188)(سنن الترمذی،رقم الحدیث: 3047، سنن ابو داؤد ،رقم الحدیث: 4337، سنن ابن ماجہ، ر قم الحدیث: 4006) كتاب الضعفاء للعقيلی، ج1، ص 126، رقم الحدیث: 264، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ،بیرو ت ) )(مصنف ابن ابی شيبہ، ج 2، ص 314، مطبوعہ کراچی) (تبیان القرآن،ج5،ص642،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ)
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں