کیا یومِ میلاد النبی ﷺعید کا دن ہے؟
تفسیر: علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: یہ آیت حجتہ الوداع کے سال یوم عرفہ کو بروز جمعہ نازل ہوئی، اس کے بعد فرائض سے متعلق کوئی آیت نازل ہوئی، نہ حلال اور حرام سے متعلق کوئی آیت نازل ہوئی اور اس آیت کے نازل ہونے کے بعد حضور نبی کریمﷺ صرف اکیس روز زندہ رہے۔ ابن جریج سے اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ (جامع البیان ، جز 6، ص 106،مطبوعہ دار الفکر ،بیروت) امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی 279ھ روایت کرتے ہیں: عمار بن ابی عمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمانے ایک یہودی کے سامنے یہ آیت پڑھی " اليوم اکملت لكم دينكم " الآیہ ،تو اس یہودی نے کہا اگر ہم پر یہ آیت نازل ہوتی تو ہم اُس دن کو عید بنا لیتے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ آیت دو عیدوں کے دن نازل ہوئی ہے ، یوم الجمعہ اور یوم عرفہ کو۔ (سنن ترمذی ج ، رقم الحدیث: 3055) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کا دن مسلمانوں کی عید ہے اور عرفہ کا دن بھی مسلمانوں کی عید ہے اور جن لوگوں نے یہ کیا ہے کہ مسلمانوں کی صرف دو عیدیں ہیں انہوں نے اس حدیث پر غور نہیں کیا۔ البتہ !یہ کہا جا سکتا ہے کہ مشہور عیدیں صرف عید الفطر اور عید الاضحیٰ ہیں جن کے مخصوص احکام شرعیہ ہیں۔ عید الفطر میں صبح افطار کیا جاتا ہے اس کے بعد دو رکعت نماز عید گاہ میں پڑھی جاتی ہے اور اُس کے بعد خطبہ پڑھا جاتا ہے اور عید الاضحیٰ میں پہلے نماز اور خطبہ ہے اور اس کے بعد صاحبِ نصاب پر قربانی کرنا واجب ہے۔ جمعہ کا دن مسلمانوں کے اجتماع کا دن ہے اور اس میں ظہر کے بدلہ میں نماز اور خطبہ فرض کیا گیا ہے، اور عرفہ کے دن غیر حجاج کے لیے روزہ رکھنے میں بڑی فضیلت ہے اور اس سے دو سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ علامہ راغب اصفہانی متوفی 502ھ لکھتے ہیں: عید اُس دن کو کہتے ہیں جو بار بار لوٹ کر آئے اور شریعت میں عید کا دن یوم الفطر اور یوم النحر (قربانی کادن) کے ساتھ مخصوص ہے اور جبکہ شریعت میں یہ دن خوشی کے لیے بنایا گیا ہے۔ جیسا کہ حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے اس ارشاد میں متنبہ فرمایا ہے یہ کھانے پینے اور ازدواجی عمل کے دن ہیں اور عید کا لفظ ہر اُس دن کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس میں کوئی خوشی حاصل ہو اور اس پر قرآن مجید کی اس آیت میں دلیل ہے: قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآىٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَ (المائده : 114) ترجمہ کنز الایمان: عیسٰی ا بن مریم نے عرض کی اے اللہ اے رب ہمارے ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلے پچھلوں کی اور تیری طرف سے نشانی۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ شرعی اور اصطلاحی عید تو صرف عید الفطر اور عید الاضحیٰ ہیں اور یوم عرفہ اور یوم جمعہ عُرفاًعید ہیں اور جس دن کوئی نعمت اور خوشی حاصل ہو وہ بھی عُرفا ًعید کادن ہے اور تمام نعمتوں کی اصل سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ سوجس دن یہ عظیم نعمت حاصل ہوئی، وہ تمام عیدوں سے بڑھ کر عید ہے اور یہ بھی عُرفاً عید ہے، شرعا ًعید نہیں ہے اس لیے مسلمان ہمیشہ سے اپنے نبیﷺ کی ولادت کے دن بارہ ربیع الاول کو عید میلاد النبی مناتے ہیں۔ (تبیان القرآن،ج3،ص67،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ)
اس سوال کے دیگر الفاظ
- کیا یومِ میلاد النبی ﷺ کو عید قرار دینے کی کوئی شرعی دلیل موجود ہے؟phrasing
- کیا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم حضور نبی کریم ﷺ کی ولادت کے دن خوشی مناتے تھے؟phrasing