تبرکات

کیا حضور نبی کریمﷺ کی استعمال شدہ چیزوں سے برکت حاصل ہوتی ہے؟

مختصر جواب
جی ہاں ،حضور اکرم ﷺ کی ذات پاک بابرکت اور رحمت والی ہے آپ کے بال مبارک ،لباس مبارک غرض آپ کے پسینہ مبارک ولعاب ہر چیز میں شفاء اللہ نے رکھی تھی اور اللہ والے جو ہوتے ہیں ان سے نسبت رکھنے والی چیزوں میں شفاء ہوتی ہے اس کا جواز قرآن وحدیث میں ثابت ہے ۔
حوالہ 1
بنی اسرائیل، آیت 29
وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا
ترجمہ
اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھو اور نہ پورا کھول دو کہ پھر ملامت میں ، حسرت میں بیٹھے رہ جاؤ۔
— کنزالعرفان
تفسیر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حصول تبرک کا جواز: حضرت سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاشیہ والی بنی ہوئی ایک چادر لے کر آئی، اس عورت نے کہا میں نے اس چادر کو اپنے ہاتھ سے بُنا ہے تاکہ میں آپ کو پہناؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے وہ چادر لے لی اور آپ کو اُس وقت اُس چادر کی ضرورت بھی تھی، آپ وہ چادر پہن کر ہمارے پاس آئے ، ایک شخص نے اس چادر کی تعریف کی اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ!یہ بہت خوبصورت چادر ہے، آپ یہ مجھے دے دیجئے، حاضرین نے کہا تم نے اچھا نہیں کیا ،اس چادر کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہن لیا تھا در آں حالیکہ آپ کو اس کی ضرورت بھی تھی پھر بھی تم نے اس کو مانگ لیا اور تم کو معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کسی کا سوال رد نہیں فرماتے، اس شخص نے کہا اللہ کی قسم ! میں نے پہننے کے لیے اس چادر کا سوال نہیں کیا تھا بلکہ میں نے اس چادر کا اس لیے سوال کیا تھا کہ یہ میرا کفن ہوجائے، سہل نے کہا پھر وہ چادر اس شخص کا کفن ہو گئی ۔ ( صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1277) حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی 855ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: ابو غسان کی روایت میں ہے چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چادر کو پہن لیا ہے اس لیے مجھے اس چادر سے حصول برکت کی امید ہے اس حدیث کے فوائد میں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن خلق ہے اور آپ کی جو دو سخا ہے اور آپ کا ہدیہ قبول فرمانا ہے، آپ عموما ًہدیہ کے جواب میں ہدیہ عطا فرماتے تھے آپ نے فرمایا ہے ایک دوسرے کو ہدیہ دو ،ایک دوسرے سے محبت بڑھے گی، اس موقع پر آپ ﷺنے اس عورت کو ہدیہ نہیں دیا تاکہ یہ معلوم ہو کہ جو اباًہدیہ دینا واجب نہیں ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بعد میں آپ ﷺنے اس کو ہدیہ دیا ہو ، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی عمدہ لباس پہننے پر اس کی تحسین کرنی چاہیے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب کوئی شخص ایسا کام کرے جو بظاہر خلاف ادب ہو تو اس کو ملامت کرنا چاہیے، اور اس حدیث میں صالحین کے آثار سے تبرک حاصل کرنے کا جواز ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی چیز کووقت ِضرورت سے پہلے تیار کر کے رکھنا چاہیے اور کفن کو وقت سے پہلے تیار کرنا جائز ہے بلکہ قبر کھدوانا بھی جائز ہے۔ (فتح الباری، ج 3، ص 144، مطبوعہ لاہور) (تبیان القرآن،ج6،ص705،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ)

— (تبیان القرآن،ج6،ص705،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ)

اس سوال کے دیگر الفاظ

  • قرآن و حدیث کی روشنی میں تبرک (برکت حاصل کرنے) کی شرعی حیثیت اور اس کی حدیں کیا ہیں؟
    phrasing
  • کیا نبی کریمﷺ کے وصالِ مبارک کے بعد بھی ان کی اشیاء سے برکت حاصل کی جا سکتی ہے؟
    phrasing
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں