زیارت

What is the ruling on travelling far to visit the shrines of the Awliya of Allah?

QB-00060·Approved by asma asghar
Short answer
مستحسن عمل ہےاور قدیم زمانہ کے نیک لوگ بھی ایسا کرتے تھے۔
Evidence 1
(Word doc — یٰسٓ)
وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُ جْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ (یٰس،20)
Translation
اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک (مومن) شخص دوڑ تا ہواآیا ،کہا: اے موسیٰ!بیشک دربار والے آپ کے بارے میں مشورہ کررہے ہیں کہ آپ کوقتل کردیں تو آپ نکل جائیں ۔بیشک میں آپ کے خیرخواہوں میں سے ہوں ۔
ترجمہ کنزالعرفان
Tafseer

اولیاء اللہ کے مزارات کی زیارت کے لیے دور دور سے آنا قدیم زمانہ کا دستور ہے

پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ نے لکھا ہے:

علامہ قزوینی تحریر فرماتے ہیں کہ جب اہل انطاکیہ نے اسے شہید کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کر دیا (الی قولہ ) انطا کیہ کے بازار میں ایک مسجد ہے اس مسجد کو مسجد حبیب کہا جاتا ہے اس کے صحن میں ان کا مزار پر انوار ہے لوگ اس کی زیارت کے لیے جایا کرتے ہیں۔

(آثار البلادو اخبار العباد للقزود نی، ص 151 مطبوعہ بیروت)

ضیاء القرآن، ج 3، ص 172، ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور ) )

علامہ یا قوت بن عبد اللہ حموی متوفی 226 ھ لکھتے ہیں:

انطاکیہ میں حبیب نجار کی قبر ہے دور و نزدیک سے لوگ اس کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔

معجم البلدان ،ج 1،ص 269،داراحيا والتراث العربی ) )

مفتی محمد شفیع متوفی 1396 ھ لکھتے ہیں۔

یاقوت حموی نے یہ بھی لکھا ہے کہ حبیب نجار کی قبر انطاکیہ میں معروف ہے دور دور سے لوگ اس کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔

(معارف القرآن ج ۷ ص ۲۷۲ مطبوعی ادارہ معارف القرآن کراچی ۱۳۹۷ )

ان حوالوں سے معلوم ہوا کہ صالحین اور اولیاء اللہ کی قبروں کی زیارت کے لیے دور دور سے جانا زمانہ قدیم سے معمول چلا آ رہا ہے اور یہ اس زمانہ کی بدعت نہیں ہے بلکہ مسلمانوں میں اس کا ہمیشہ سے چلن اور رواج رہا ہے۔

سید ابو الاعلی مودودی لکھتے ہیں:

موجودہ شہر مکلا سے تقریبا 152 میل کے فاصلہ پر شمال کی جانب میں حضر موت میں ایک مقام ہے جہاں لوگوں نے حضرت ھود کا مزار بنا رکھا ہے اور وہ قبر ھود کے نام سے ہی مشہور ہے، ہر سال پندرہ شعبان کو وہاں عرس ہوتا ہے اور عرب کے مختلف حصوں سے ہزاروں آدمی وہاں جمع ہوتے ہیں ۔ (تفہیم القرآن ،ج 4، ص 615،لاہور)

اب بھی یہ کہا جائے گا کہ انبیا علیہ السلام اور اولیاء کرام کا عرس منانا بریلوں کی بدعت ہے !

تبیان القرآن،ج9،ص740،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ

Other phrasings of this question

  • Travelling to visit saints' shrines
    seo
  • The ruling on travel for visiting graves
    educational
Feedback on this answer
Email feedback