زیارت

اولیاء اللہ کے مزارات کی زیارت کے لئے دُور کا سفر کرنا کیسا ہے؟

مختصر جواب
مستحسن عمل ہے اور قدیم زمانہ کے نیک لوگ بھی ایسا کرتے تھے۔
حوالہ 1
یٰسٓ، آیت 20
وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُ جْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ
ترجمہ
اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک (مومن) شخص دوڑ تا ہواآیا ،کہا: اے موسیٰ!بیشک دربار والے آپ کے بارے میں مشورہ کررہے ہیں کہ آپ کوقتل کردیں تو آپ نکل جائیں ۔بیشک میں آپ کے خیرخواہوں میں سے ہوں ۔
— ترجمہ کنزالعرفان
تفسیر

اولیاء اللہ کے مزارات کی زیارت کے لیے دور دور سے آنا قدیم زمانہ کا دستور ہے

پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ نے لکھا ہے:

علامہ قزوینی تحریر فرماتے ہیں کہ جب اہل انطاکیہ نے اسے شہید کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کر دیا (الی قولہ ) انطاکیہ کے بازار میں ایک مسجد ہے اس مسجد کو مسجد حبیب کہا جاتا ہے اس کے صحن میں ان کا مزار پر انوار ہے لوگ اس کی زیارت کے لیے جایا کرتے ہیں۔

(آثار البلاد و اخبار العباد للقزوینی، ص 151 مطبوعہ بیروت)

(ضیاء القرآن، ج 3، ص 172، ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور)

علامہ یاقوت بن عبد اللہ حموی متوفی 226 ھ لکھتے ہیں:

انطاکیہ میں حبیب نجار کی قبر ہے دور و نزدیک سے لوگ اس کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔

(معجم البلدان، ج 1، ص 269، داراحیاء التراث العربی)

مفتی محمد شفیع متوفی 1396 ھ لکھتے ہیں۔

یاقوت حموی نے یہ بھی لکھا ہے کہ حبیب نجار کی قبر انطاکیہ میں معروف ہے دور دور سے لوگ اس کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔

(معارف القرآن ج ۷ ص ۲۷۲ مطبوعہ ادارہ معارف القرآن کراچی ۱۳۹۷ )

ان حوالوں سے معلوم ہوا کہ صالحین اور اولیاء اللہ کی قبروں کی زیارت کے لیے دور دور سے جانا زمانہ قدیم سے معمول چلا آ رہا ہے اور یہ اس زمانہ کی بدعت نہیں ہے بلکہ مسلمانوں میں اس کا ہمیشہ سے چلن اور رواج رہا ہے۔

سید ابو الاعلی مودودی لکھتے ہیں:

موجودہ شہر مکلا سے تقریبا 152 میل کے فاصلہ پر شمال کی جانب میں حضر موت میں ایک مقام ہے جہاں لوگوں نے حضرت ھود کا مزار بنا رکھا ہے اور وہ قبر ھود کے نام سے ہی مشہور ہے، ہر سال پندرہ شعبان کو وہاں عرس ہوتا ہے اور عرب کے مختلف حصوں سے ہزاروں آدمی وہاں جمع ہوتے ہیں ۔ (تفہیم القرآن ،ج 4، ص 615،لاہور)

— تبیان القرآن،ج9،ص740،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ

اس سوال کے دیگر الفاظ

  • قبروں کی زیارت کو جانا کیا شرک یا بدعت ہے ؟
    educational
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں