فقہ — عبادات

Is it permissible to break the rows after janaza prayer and make du'a?

Short answer
جی ہاں ! کیوں کہ دعا ایک مقبول عبادت ہے قرآن و حدیث میں یہ بات صراحت کے ساتھ بیان ہوئی کہ دعا مانگنا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے،اور اس کا وقت متعین نہیں کیا گیا کہ کب کون سی دعا مانگیں بلکہ دعا مانگنے کا مطلقاً حکم ہے، اور قرآن مجید کی کسی آیت یا کسی صحیح حدیث میں نماز جنازہ کے بعد دعا سے منع نہیں کیا گیا۔
Evidence 1
المؤمن، آیت 60
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي اسْتَجِبْ لَكُمْ
Translation
اور تمہارے رب نے فرمایا: تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔
— ترجمہ کنز العرفان
Tafseer

نماز جنازہ کے بعد صفیں تو ڑ کر دعا کرنے کا جواز

اہل سنت کا معمول ہے کہ نماز جنازہ پڑھنے کے بعد صفیں تو ڑ لیتے ہیں اور لوگ منتشر ہو جاتے ہیں اس کے بعد امام ایک بار سورہ فاتحہ اور تین بار سورہ اخلاص پڑھتا ہے اور لوگوں سے بھی پڑھنے کے لیے کہتا ہے، پھر اس کا میت کے لیے ایصال ثواب کرتا ہے اور مغفرت کے لیے دعا کرتا ہے اور لوگ اس پر آمین کہتے ہیں۔

علماء دیو بند اس عمل سے منع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ بدعت ہے ۔ نماز جنازہ میں میت کے لیے دعا کی جا چکی ہے اب اس دعا کے تکرار کی کیا ضرورت ہے، نیز اس دعا سے نما زجنازہ میں زیادتی کا وہم پیدا ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

ہم کہتے ہیں کہ قرآن مجید اور احادیث میں مطلقاً دعا کرنے کا حکم ہے اور اس کی فضیلت کا ذکر ہے، ہم اختصار کے پیشے نظر صرف دو آیتیں اور تین حدیثوں کا ذکر کر رہے ہیں۔

**فَادْعُوا اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِہ الکافرون**

پس تم اللہ سے دعا کرو اخلاص سے اس کی اطاعت کرتے ہوئے خواہ کافروں کو ناگوار ہوں

وَقَالَ رَبُّكُمُ ; ادْعُونِي اسْتَجِبْ لَكُمْ

اور تمہارے رب نے فرمایا: تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا۔

دعا کے اس عمومی حکم میں نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا بھی شامل ہے اور قرآن مجید کی کسی آیت میں اور کسی حدیث صحیح میں نماز جنازہ کے بعد دعا پڑھنے سے منع نہیں کیا گیا۔ پھر بغیر کسی شرعی ممانعت کے نماز جنازہ کے بعد دعا کرنے سے منع کرنا صحیح نہیں ہے اور اپنی طرف سے شریعت وضع کرنے کے مترادف ہے اور اللہ کے ذکر سے روکنے اور منع کرنے کی جسارت ہے ۔ اس کی قرآن اور حدیث میں سخت مذمت ہے۔

دعا کرنے کے عموم اور اطلاق میں حسب ذیل احادیث ہیں:

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

دعا عبادت کا مغز ہے۔(سنن الترمذی،رقم الحدیث،3371)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اللہ کے نزدیک دعا سے بڑھ کر کی مکرم چیز نہیں ہے ۔(سنن الترمذی،رقم الحدیث،3370)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جو شخص اللہ سے سوال نہیں کرتا اللہ تعالی اس پر غضب ناک ہوتا ہے ۔(سنن الترمذی،رقم الحدیث،3373)

ان احادیث میں بھی عموم اور اطلاق کے ساتھ دعا کرنے کا حکم ہے اور نماز جنازہ پڑھنے کے بعد جب صفیں ٹوٹ جائیں اور لوگ منتشر ہو جائیں یا جنازہ کے گرد جمع ہو جائیں اس وقت میت کے لیے دعا کرنا بھی ان اوقات کے عموم اور اطلاق میں داخل ہے اور کسی حدیث میں اس وقت میت کے لیے دعا کرنے سے ممانعت نہیں ہے، سو بغیر کسی شرعی دلیل کے محض ہوائے نفس سے نماز جنازہ کے بعد دعا کرنے سے منع کرنا بدعت اور گم راہی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے جب کہ خصوصیت کے ساتھ نماز جنازہ کے بعد دعا کرنے کے سلسلہ میں احادیث اور آثار بھی وارد ہیں ۔

— تبیان القرآن،ج10،ص242،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ

Other phrasings of this question

  • Is du'a after janaza prayer permissible?
    seo
  • Janaza du'a and the practice of the Companions
    educational
Reviewed and approved by
Asma Asghar
Religious Scholar, MPhil
Principal, Fakhr-ul-Mashaikh Quran Academy (Regd.), Lahore
Feedback on this answer
Email feedback