کیا نماز جنازہ کے بعد صفیں توڑ کر دعا مانگنا جائز ہے؟
نماز جنازہ کے بعد صفیں تو ڑ کر دعا کرنے کا جواز
اہل سنت کا معمول ہے کہ نماز جنازہ پڑھنے کے بعد صفیں تو ڑ لیتے ہیں اور لوگ منتشر ہو جاتے ہیں اس کے بعد امام ایک بار سورہ فاتحہ اور تین بار سورہ اخلاص پڑھتا ہے اور لوگوں سے بھی پڑھنے کے لیے کہتا ہے، پھر اس کا میت کے لیے ایصال ثواب کرتا ہے اور مغفرت کے لیے دعا کرتا ہے اور لوگ اس پر آمین کہتے ہیں۔
علماء دیو بند اس عمل سے منع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ بدعت ہے ۔ نماز جنازہ میں میت کے لیے دعا کی جا چکی ہے اب اس دعا کے تکرار کی کیا ضرورت ہے، نیز اس دعا سے نما زجنازہ میں زیادتی کا وہم پیدا ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
ہم کہتے ہیں کہ قرآن مجید اور احادیث میں مطلقاً دعا کرنے کا حکم ہے اور اس کی فضیلت کا ذکر ہے، ہم اختصار کے پیشے نظر صرف دو آیتیں اور تین حدیثوں کا ذکر کر رہے ہیں۔
**فَادْعُوا اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِہ الکافرون**
پس تم اللہ سے دعا کرو اخلاص سے اس کی اطاعت کرتے ہوئے خواہ کافروں کو ناگوار ہوں
وَقَالَ رَبُّكُمُ ; ادْعُونِي اسْتَجِبْ لَكُمْ
اور تمہارے رب نے فرمایا: تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا۔
دعا کے اس عمومی حکم میں نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا بھی شامل ہے اور قرآن مجید کی کسی آیت میں اور کسی حدیث صحیح میں نماز جنازہ کے بعد دعا پڑھنے سے منع نہیں کیا گیا۔ پھر بغیر کسی شرعی ممانعت کے نماز جنازہ کے بعد دعا کرنے سے منع کرنا نہیں ہے اور اپنی طرف سے شریعت وضع کرنے کے مترادف ہے اور اللہ کے ذکر سے روکنے اور منع کرنے کی جسارت ہے ۔ اس کی قرآن اور حدیث میں سخت مذمت ہے۔
دعا کرنے کے عموم اور اطلاق میں حسب ذیل احادیث ہیں:
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
دعا عبادت کا مغز ہے۔
(223 (سنن الترمذي رقم الحدیث: 1337، معجم الاوسط رقم الحديث: 3220،مشكوة رقم
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللہ کے نزدیک دعا سے بڑھ کر کی مکرم چیز نہیں ہے ۔
(سنن الترمذی رقم الحدیث: ۳۳۷۰، سنن ابن ماجه رقم الحدیث: ۳۸۲۹، صحیح ابن حبان رقم الحدیث: ۸۷۰ انجم الاوست الحدیث: ۳۷۱۸ - ۲۵۴۴ مسند احمد ج ۲ ص ۱۳۶۴ الادب المفر درقم الحدیث: ۱۲ کتاب الضعفاء العقيلي ج ۳ ص ۳۰۱ المستدرک ج اص ۱۳۹۰ شرح رقم الحدیث : ۱۳۸۸)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص اللہ سے سوال نہیں کرتا اللہ تعالی اس پر غضب ناک ہوتا ہے ۔
(سنن الترمذی رقم الحدیث: ۳۳۷۳، سنن ابن ماجه رقم الحدیث: ۱۳۸۲۷ مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱۰ ص ۲۰۰، مسند احمد ج ۲ ص نے ۴۷ - ۴۴۳ ۱۴۴۲ الادب المفر درقم الحدیث : ۶۵۸ مسند ابو یعلى رقم الحدیث: ۶۶۵۵‘ المستد رک ج ۱ص۴۹۱ )
ان احادیث میں بھی عموم اور اطلاق کے ساتھ دعا کرنے کا حکم ہے اور نماز جنازہ پڑھنے کے بعد جب صفیں ٹوٹ جائیں اور لوگ منتشر ہو جائیں یا جنازہ کے گرد جمع ہو جائیں اس وقت میت کے لیے دعا کرنا بھی ان اوقات کے عموم اور اطلاق میں داخل ہے اور کسی حدیث میں اس وقت میت کے لیے دعا کرنے سے ممانعت نہیں ہے، سو بغیر کسی شرعی دلیل کے محض ہوائے نفس سے نماز جنازہ کے بعد دعا کرنے سے منع کرنا بدعت اور گم راہی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے جب کہ خصوصیت کے ساتھ نماز جنازہ کے بعد دعا کرنے کے سلسلہ میں احادیث اور آثار بھی وارد ہیں ۔
اس سوال کے دیگر الفاظ
- نمازِ جنازہ کے بعد دعا کرنا کیسا؟seo
- کیا صحابہ کرام نماز جنازہ کے بعد دعا کا اہتمام فرماتے ؟educational