کیا دَم کرنا قرآن وحدیث سے ثابت ہے؟
رسول اللہ ﷺنے خود بھی اپنا علاج فرمایا ہے۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ حضور نبی کریم ﷺ کا کس چیز سے علاج کیا گیا تھا؟ انہوں نے کہا:اب اس چیز کو مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی باقی نہیں رہا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ڈھال میں پانی لے کر آتے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اس سے زخم کو دھوتیں، پھر چٹائی کو جلایا گیا اور اس کی راکھ زخم میں بھر دی گئی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب حضور نبی کریم ﷺبیمار ہوتے تو حضرت جبرئیل آکر آپ پر اِن کلمات سےدم کرتے : بِسْمِ اللّٰہِ یُبْرِِیْکَ مِنْ کُلِّ دّائٍ یَشْفِیْکَ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ وَ شَرِّ کُلِّ ذِي عَیْنٍ (صحیح مسلم،الطب،39) ان متعدد احادیث صحیحہ سے یہ ثابت ہو گیا کہ حضور نبی کریم ﷺنے بیماری میں علاج کرنے کا حکم دیا ہے اور آپ ﷺنے خود بھی بیماری میں علاج کیا ہے اور آپ پر دم کیا گیا ہے۔(تبیان القرآن،ج4،ص228،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ)