غیر اللہ سے مدد

کیا دَم کرنا قرآن وحدیث سے ثابت ہے؟

مختصر جواب
جی ہاں ،دم کرنا جائز ہے بشرطیکہ وہ دم قرآنی آیات یا کوئی مسنون دعا ہو جس کے معنیٰ سمجھ آتے ہوں کیوں کہ قرآن کریم کا ہر لفظ شفاء اور نور ہے تو ان کو پڑھ کر دم کرلینا اس میں کچھ شرک یابدعت نہیں قرآن پاک اور حدیث شریف سے اس کا جواز ثابت ہے -
حوالہ 1
الاعراف، آیت 89
وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا
ترجمہ
ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے، ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا۔
— ترجمہ کنز العرفان
تفسیر

رسول اللہ ﷺنے خود بھی اپنا علاج فرمایا ہے۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ حضور نبی کریم ﷺ کا کس چیز سے علاج کیا گیا تھا؟ انہوں نے کہا:اب اس چیز کو مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی باقی نہیں رہا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ڈھال میں پانی لے کر آتے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اس سے زخم کو دھوتیں، پھر چٹائی کو جلایا گیا اور اس کی راکھ زخم میں بھر دی گئی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب حضور نبی کریم ﷺبیمار ہوتے تو حضرت جبرئیل آکر آپ پر اِن کلمات سےدم کرتے : بِسْمِ اللّٰہِ یُبْرِِیْکَ مِنْ کُلِّ دّائٍ یَشْفِیْکَ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ وَ شَرِّ کُلِّ ذِي عَیْنٍ (صحیح مسلم،الطب،39) ان متعدد احادیث صحیحہ سے یہ ثابت ہو گیا کہ حضور نبی کریم ﷺنے بیماری میں علاج کرنے کا حکم دیا ہے اور آپ ﷺنے خود بھی بیماری میں علاج کیا ہے اور آپ پر دم کیا گیا ہے۔(تبیان القرآن،ج4،ص228،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ)

— (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 243صحیح مسلم ، جہاد: 100 ،سنن الترمذی، رقم الحدیث: 2092) (صحیح مسلم،الطب،39)
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں