کیا مصیبت یا مشکل وقت میں غیر اللہ سےمدد لینا جائزہے؟
علامہ محمود بن عمر ز مخشری خوارزمی متوفی 538ھ لکھتے ہیں:
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نےایک (بادشاہ )غیر اللہ سے جو مدد لی تھی اس پر کیوں عتاب کیا گیا جبکہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں غیر اللہ سے مدد لینا جائز ہے ۔
اللہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے:
وَتَعَاوَنُوا عَلَى البر والتقوى (المائدہ،2)
نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔
اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کے اس قول کی حکایت کی ہے:
مَنْ أَنْصَارِي إلى اللہ (آل عمران،52)
اللہ تعالیٰ کی طرف میرے کون مددگار ہیں؟
اور اس سلسلہ میں حسب ذیل احادیث ہیں:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص کسی مسلمان کی دنیاوی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی آخرت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کر دے گا اور جو شخص کسی مسلمان کا پردہ رکھے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کا پردہ رکھے گا اور اللہ اس وقت تک اپنے بندہ کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔
(صحیح مسلم ،رقم الحدیث: 2699، سنن ابو داؤد ،رقم الحدیث: 4946،سنن الترمذی ،رقم الحدیث: 1425)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، اس پر ظلم کرے نہ اس کو ہلاکت میں ڈالے، اور جو شخص اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد میں رہتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی سختی کو دور کرتا ہے تو اللہ تعالی اس سے قیامت کی سختیوں میں سے کوئی سختی دور کر دیتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کا پردہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا پردہ رکھے گا۔
(صحیح البخاری ،رقم الحدیث: 2442، صحیح مسلم ،رقم الحدیث:2580، سنن ابو داؤد ،رقم الحدیث: 4893)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مدینہ آنے کے ابتدائی ایام میں ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیند سےبیدار ہوئے تو آپ نے فرمایا :
کاش میرے اصحاب میں سے کوئی نیک شخص آج رات میری حفاظت کرتا! پھر ہم نے ہتھیاروں کی آواز سنی، آپ نے فرمایا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: میں سعد بن ابی وقاص ہوں اور آپ کی حفاظت کے لیے آیا ہوں! اور نبی
صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ۔
(صحیح البخاری ،رقم الحدیث: 2885، صحیح مسلم ،رقم الحدیث: 2410، سنن الترمذی ،رقم الحدیث: 3757)
پھر علامہ زمخشری ؒلکھتے ہیں کہ
مخلوق میں سے کسی کام میں مدد حاصل کرنا ایسا ہی ہے جیسے مرض کے ازالہ کے لیے دواؤں کو تناول کرنا اور طاقت حاصل کرنے کے لیے کھانا پینا (یا مقویات کھانا) خواہ کافر سے مدد لی جائے کیونکہ وہ بادشاہ کافر تھا جس سے حضرت یوسف علیہالسلام نے مدد لی،کیونکہ اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ ظلم سے بچنے کے لیے یا دریا میں ڈوبنے اور آگ میں جلنے سے بچنے کے لیے اور اور اسی طرح کی دوسری مصیبتوں میں کفار سے مدد لینا جائز ہے۔
اس سوال کے دیگر الفاظ
- کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور کو مشکل میں پکارنا جائز ہے ؟seo
- کیا کسی کووسیلہ بنا کر مشکلوں میں فریاد کرنا جائز ہے ؟educational